گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین کی گرفتاری قابل مذمت ہے، تنظیم اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)نتنظیم اسلامی پاکستان کے امیر شجاع الدین شیخ کی ہدایت پر امیر حلقہ حیدرآباد امجد حسین چنہ و دیگر نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امجد حسین چنہ نے کہاکہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے اراکین اور دیگر پاکستانیوں کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ قابض صہیونی افواج نے پاکستانی شہریوں سمیت کئی افراد کو غیرقانونی طور پر یرغمال بنایا ہے جو عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ہم حکومتِ پاکستان اور او آئی سی سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ معاملہ فی الفور اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے اور سیاسی و سفارتی ذرائع استعمال کر کے یرغمال بنائے گئے افراد کی بحفاظت اور فوری رہائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین پر صرف اور صرف اہلِ فلسطین کا حق ہے۔ ہم ناجائز اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے، نہ ہی فلسطین و غزہ کے مسئلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف قابلِ قبول ہے۔ مرکزی مسلم لیگ فلسطین اور حماس کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔مہک فیصل کا کہنا تھا کہ غزہ کی بہادر ماں بہنوں کو سلام پیش کرتے ہین اور اقوام عالم سے درخواست کرتے ہیں کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ اور اہل فلسطین کی نسل کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔