Express News:
2026-07-24@05:38:21 GMT

غزہ میں صحافیوں کا قتل، سچائی کا قتل ہے!

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

امریکا ،یورپی ممالک، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں کوئی بھی ملک اور حکمران آزاد صحافت اور آزاد منش صحافیوںکو پسند نہیں کرتا ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کی جمہوریتیں اور جمہوری حکمران اپنے ہاں صحافیوں اور میڈیا کو آزادانہ طور پر کچھ نہ کچھ کہنے اور لکھنے کی آزادیاں دیتے ہیں ۔ مگر یہ محدود آزادیاں بھی امریکی اور مغربی حکمرانوں کو بہت چبھتی ہیں ۔

مثال کے طور پر 16ستمبر2025 کو امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، سے واشنگٹن میں ایک امریکی صحافی نے ٹرمپ کے مزاج کے خلاف سوال پوچھا تو ٹرمپ نے جواب دینے کے بجائے چیختے ہُوئے صحافی سے کہا:’’ مجھے معلوم ہے تمہارے دل میں (میرے خلاف) کتنی نفرت موجود ہے ۔‘‘ٹرمپ صاحب اِسی طرح اپنے کئی مخالف امریکی صحافیوں کی بے عزتی کر چکے ہیں اور اِس پر وہ کبھی نادم بھی نہیں ہُوئے ۔

بھارت میں مقتدر بی جے پی کے شدید دباؤ تلے آکراکثریتی بھارتی میڈیا مودی کی گود میں بیٹھ چکا ہے ۔پاکستان میں بھی جو صحافی، بوجوہ، سرکار دربار اور طاقتوروں کی پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہیں ، وہ سرکار دربار کی نظر میں محبوب کہلاتے ہیں۔ آزاد منش صحافیوں کی حیلوں بہانوں سے مشکیں کسنے کی مثالیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک میں بھی آزاد منش صحافیوں اور ادیبوںکی جان پر بنی ہُوئی ہے ۔ مصر کے نامور فلسفی ادیب ، ثناء اللہ ابراہیم، کی کتابیں ہم اگر مطالعہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ مصری حکمران مصری ادیبوں اور صحافیوں پر کسقدر مظالم ڈھا رہے ہیں ۔ جناب ثناء اللہ ابراہیم اپنی آزادانہ فکری تحریروں کے باعث ہی زندگی کا زیادہ عرصہ پسِ دیوارِ زنداں رہے ۔ اگست 2025میں وہ نہائت کسمپرسی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ مصر سے متصل ،غزہ، میں پچھلے دو برس سے غاصب و ظالم صہیونی اسرائیل نے فلسطینی صحافیوں پر جو مظالم ڈھا رکھے ہیں ، اِس کی مثال دُنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔یکم اور دو اکتوبر2025کو خورو نوش اور ادویات کی امداد لے کر محصور غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والا صمود فلوٹیلا(جس کی قیادت ایک بہادر سویڈش نوجوان خاتون، گریٹا تھنبرگ، کررہی تھیں)جس طرح صہیونی اسرائیل کی بے درد جارحیت کا ہدف بنا ہے، ساری دُنیا اِس کی مذمت کررہی ہے۔

اِس فلوٹیلا پر کئی صحافی بھی سوار تھے۔ انھیں بھی اسرائیل نے دیگر افراد کے ساتھ قیدی بنایا، تشدد کیا اور پھر دو دن کے بعد استنبول روانہ کر دیا۔ساری دُنیا اور عالمی میڈیا غزہ کے صحافیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم و قہرمانیوں کی مذمت کرتے ہُوئے اِنہیں روکنے کی اپیلیں بھی کررہی ہے، مگر اسرائیل کا غزہ کے صحافیوں کے خلاف دستِ ستم رُک نہیں رہا۔ 16 ستمبر 2025ء کو سعودی عرب کے معروف اخبار ’’عرب نیوز‘‘ میں یوسی میکلبرگ(Yossi Mekelberg) کا غزہ کے شہید و جری صحافیوں پر ایک شاندار آرٹیکل شایع ہُوا ہے ۔ یوسی میکلبرگ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں اور لندن میں بروئے کار مشہور تھنک ٹینک (چیٹم ہاؤس) کے فیلو بھی ۔

یوسی میکلبرگ اپنے مذکورہ آرٹیکل میں غزہ کی صحافت ، میڈیا اور غزہ کے بہادر و شہید صحافیوں (جنھوں نے غزہ میں بے پناہ اسرائیلی مظالم بارے دُنیا کو آگاہ کرتے ہُوئے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں) بارے یوں لکھتے ہیں:’’ اسرائیل میں حکمران دائیں بازو کی جماعتیں میڈیا اور صحافیوں کے خلاف سخت مخالفت رکھتی ہیں۔ یہ رجحان غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حالانکہ غزہ کے صحافی سچائی کی رپورٹنگ کررہے ہیں ۔

پچھلے ہفتے ہی برطانیہ کا دَورہ کرتے ہوئے اسرائیلی صدر( مائیکل ہرزوگ) نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہیں۔لیکن اگر ایسا ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ میں بین الاقوامی میڈیا کی رسائی کیوں روک رہے ہیں؟ ایسی صورت میں مقامی فلسطینی صحافی ہی وہ ہیں جنھوں نے اسرائیلی آفتوں اور مظالم کی رپورٹنگ کی ذمے داری اٹھائی ہوئی ہے، اور جن میں سے ناقابلِ یقین تعداد پہلے ہی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکی ہے۔’’کمیٹی ٹُو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘‘ کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں کم از کم 189 صحافی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کا دفتر غزہ میں شہید صحافیوں کی تعداد247 بتاتا ہے۔ یہ دونوں تعداد دل دہلادینے والی ہیں۔‘‘

یوسی میکلبرگ مزید لکھتے ہیں:’’ فلسطین میں یہ چھوٹا سا صحرائی علاقہ( غزہ کی پٹی) زمین پر رپورٹنگ کرنے کے لیے صحافیوں کے لیے اب دنیا کے اُن مقامات میں سے ایک بن چکا ہے جہاں جانا سب سے زیادہ خطرناک ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموںکا اصرار ہے کہ جنگ کے دوران بھی صحافی محفوظ رہنے کے حق کے مستحق ہیں، مگر متعدد ایسے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بناکر قتل کیا ہے۔مثال کے طور پر غزہ میں ’’الجزیرہ‘‘ کے معروف صحافی، اَنس الشریف، کی شہادت۔ اُن کے قتل کے فوراً بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اَنس الشریف ’’ حماس‘‘ کے ایک دہشت گرد گروہ کا سربراہ تھا جو اسرائیلی شہریوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تل ابیب کی طرف سے مگر ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ الشریف واقعی ایسا کچھ کر رہا تھا۔ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل کو اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔

اَنس الشریف پر حملہ غزہ میں اُس خیمے پر ہُوا جس پر ’’ پریس ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اِس کے باوجود اسرائیل مہلک حملے سے باز نہ آیا۔پھر اُسی روز خان یونس (غزہ)کے ناصر اسپتال پر قریباً ایک منٹ کے وقفے سے دو بمباریاں کی گئیں۔ پہلی نے اسپتال کی بیرونی دیوار کو ہدف بنایا اور جب امدادی کارکن اور دیگر صحافی وہاں پہنچے تو دوسری بمباری ہوئی۔ نتیجتاً چار فلسطینی صحافی موقع پر مارے گئے۔ ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس پر بھی کوئی مکمل معافی نہیں مانگی،اور یہ وعدہ تک نہیں کیا کہ مستقبل میں غزہ میں صحافیوں کی ایسی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے پوری کوشش کی جائے گی‘‘۔

دُنیا کے بہت سے حقیقت نگاروں اور تجزیہ کاروں کی طرح یوسی میکلبرگ بھی کہتے ہیں:’’دُکھ کی بات یہ ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت کسی بھی ایسے صحافی کی دوست نہیں ہے جو کسی بھی معاملے میں اُن کے بیانیے کی تقلید نہ کرے۔ غزہ کے مقامی رپورٹرز اپنی جان کو مسلسل خطرے میں دیکھتے ہیں۔پچھلے مہینے، تقریباً 30ممالک( جن میں برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں) نے میڈیا فریڈم کولیشن کے بیان کی حمایت کی، جس نے غزہ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو سختی سے مسترد کیا۔

مزید برآں، انھوں نے میڈیا کے ذرایع اور سہولیات تک آزادانہ رسائی کا مطالبہ کیا بھی تاکہ غزہ کے صحافی اپنا کام آزادانہ اور محفوظ طریقے سے انجام دے سکیں۔جلد یا بدیر، غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اُس کی مکمل سچائی سامنے آجائے گی۔ لیکن پہلے ہی، مقامی فلسطینی صحافیوں کی بہادری کی بدولت، جنھوں نے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا، ہم اتنا جان چکے ہیں، اور کئی مہینوں سے جانتے ہیں کہ جنگ کو ختم کرنا کتنا ضروری ہے۔جو بہادر صحافی غزہ سے گزشتہ دو برسوں میں رپورٹنگ کر رہے ہیں (خاص طور پر وہ جنھوں نے اپنی جانوں کے بدلے یہ فرض نبھایا ہے) انھیں آنے والی نسلیں لمبے عرصے تک یاد رکھیں گی۔ اُن کی لگن، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہمیں غزہ میں متنوع اسرائیلی مظالم اور زیادتیوں سے آگاہ کیے رکھا‘‘۔ غزہ کے بہادر ، عظیم المرتبت اور جرأتمند صحافیوں(اور خصوصاً شہید صحافیوں) کو ہمارا سلام اور سیلوٹ پہنچے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غزہ میں صحافیوں فلسطینی صحافی یوسی میکلبرگ غزہ کے صحافی صحافیوں اور صحافیوں پر صحافیوں کی اسرائیل نے جنھوں نے رہے ہیں کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم