فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، وزیرِاعظم سباستیان لوکارنو اور کابینہ مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پیر کے روز فرانس کے نئے وزیرِاعظم سیباستیان لکورنو اور ان کی کابینہ نے حلف اٹھانے کے چند گھنٹے بعد ہی استعفیٰ دے دیا، جس سے ملک کا سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اچانک اور غیرمتوقع فیصلے کے بعد یورپی منڈیوں میں منفی رجحان دیکھا گیا، فرانسیسی اسٹاک مارکیٹ اور یورو کی قدر میں نمایاں کمی آئی۔
لکورنو نے استعفے سے قبل کہا کہ انہیں اتحادیوں اور مخالفین دونوں کی جانب سے حکومت گرانے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے باعث وہ مؤثر طور پر اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نئی کابینہ تشکیل دیدی، سیاسی بحران برقرار
اپوزیشن جماعتوں نے فوراً صدر ایمانوئل میکرون سے مطالبہ کیا کہ وہ یا تو مستعفی ہو جائیں یا فوری طور پر نئے پارلیمانی انتخابات کرائیں۔ ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
سیباستیان لکورنو، جو گزشتہ 2 برسوں میں میکرون کے پانچویں وزیرِاعظم تھے، محض 27 دن کے لیے عہدے پر فائز رہے۔
ان کی حکومت صرف 14 گھنٹے قائم رہی، جو جدید فرانسیسی تاریخ کی سب سے قلیل المدتی حکومت قرار پائی ہے۔
سیاسی پس منظر اور آئندہ امکاناتفرانس میں سیاسی عدم استحکام 2022 میں میکرون کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں۔
گزشتہ سال صدر میکرون کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کرانے کے فیصلے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔
اب صدر میکرون کے پاس 3 راستے ہیں: نئے انتخابات کرانا، مستعفی ہونا یا ایک اور وزیرِاعظم مقرر کرنا۔
مزید پڑھیں: کیا فرانسیسی صدر کے بعد ٹرمپ کی بھی خاتونِ اول سے تلخ کلامی ہوئی؟ مبینہ تکرار کی ویڈیو وائرل
اگرچہ ان کی مدتِ صدارت مئی 2027 تک ہے، وہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ وہ استعفیٰ یا نئے انتخابات کے حق میں نہیں۔
ابھی تک انہوں نے لوکارنو کے استعفے پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔
ٹی وی چینل بی ایف ایم نے صدر میکرون کی فوٹیج دکھائی جس میں وہ دریائے سین کے کنارے تنہا چہل قدمی کرتے دکھائی دیے۔
اپوزیشن کا دباؤاپوزیشن رہنماؤں نے صدر پر فوری ردعمل کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اب میکرون کو فیصلہ کرنا ہوگا، اسمبلی تحلیل کریں یا فوراً خود استعفیٰ دیں۔
نیشنل ریلے کی رہنما میرین لی پین نے کہا یہ مذاق بہت طویل چل چکا، اب اس تماشے کو ختم ہونا چاہیے۔
انتہاپسند بائیں بازو کی جماعت فرانس انباؤڈ کی متھلڈ پانو نے کہا کہ لوکارنو مستعفی، ایک سال سے بھی کم میں 3 وزیرِاعظم ناکام۔ اب میکرون کا وقت ختم ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
قدامت پسند ریپبلکن پارٹی کے ڈیوڈ لیسنار نے بھی صدر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
سیباستیان لکورنو نے اپنے استعفے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کی انّا اور غیر لچکدار رویے نے کسی بھی سیاسی مفاہمت کو ناممکن بنا دیا تھا، جبکہ ان کی اپنی جماعت کے اراکین ذاتی صدارتی عزائم میں مصروف تھے۔
معاشی اثراتپیرس اسٹاک مارکیٹ میں 1.
سیباستیان لکورنو سے قبل 2 وزیرِاعظم فرانسوا بایرو اور مشیل بارنیے بھی پارلیمانی مخالفت کے باعث مستعفی ہو چکے ہیں، جب وہ سرکاری اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں:
فرانس کا سرکاری قرض جی ڈی پی کے 113.9 فیصد تک جا پہنچا ہے، جبکہ مالیاتی خسارہ یورپی یونین کی 3 فیصد حد سے تقریباً دوگنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے بار بار بدلنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہورہا ہے، جو صرف فرانس ہی نہیں بلکہ یورپ بھر کی معیشت پر اثر ڈال رہا ہے۔
گہری سیاسی عدم استحکام کی کیفیت
1958 میں فرانس کے موجودہ نظام، پانچویں جمہوریہ، کے قیام کے بعد ملک نے شاذونادر ہی اتنے شدید سیاسی بحران کا سامنا کیا ہے۔
یہ آئین اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ صدر کو مضبوط اختیارات دے کر حکومتی استحکام یقینی بنایا جائے، تاکہ جنگ عظیم دوئم کے بعد والی غیر یقینی سیاسی کیفیت دوبارہ نہ دہرائی جائے۔
مزید پڑھیں:
تاہم، صدر ایمانوئیل میکرون، جنہوں نے 2017 میں اقتدار میں آ کر ملک کی سیاسی زمین ہلا دی تھی ، اب ایک تقسیم شدہ پارلیمنٹ میں پھنسے ہیں، جہاں دائیں اور بائیں دونوں بازو غالب ہیں اور مرکز اپنی گرفت کھو چکا ہے۔
فرانس میں مخلوط حکومتیں بنانے یا مفاہمت کے ذریعے حکمرانی کا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے، جو بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمانوئل میکرون پارلیمنٹ ریپبلکن پارٹی صدر فرانس وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمانوئل میکرون پارلیمنٹ ریپبلکن پارٹی سیاسی بحران مزید پڑھیں رہا ہے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوافرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔
مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔
نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرارپراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھےفرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحتڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔
فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موتڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل