نوبل انعام 2025 کا پہلا اعلان: مکمل شیڈول اور انعامی رقم جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
نوبل انعام 2025 کی تقسیم کا پیر سے باضابطہ آغاز ہو گیا۔ ابتدائی انعامات طب کے شعبے کے لیے دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خان کو باہر بھیجنے کا پلان، شہباز شریف اور عاصم منیر عظیم لیڈر قرار، ماہرنگ بلوچ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انعامات کے اعلانات کا سلسلہ 6 اکتوبر سے شروع ہوکر 13 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
طب کے شعبے میں 3 سائنسدانوں کو نوبل انعاماس سال نوبل انعام برائے طب معروف سائنسدانوں فریڈ ریمزڈیل ،میری برنکو اور شیمون ساکاگوچی کو دیا گیا ہے۔
یہ انعام مدافعتی نظام پر ان کی تحقیق اور اہم دریافتوں کے اعتراف میں دیا گیا۔
نوبل اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا۔ ان کی دریافتوں نے تحقیق کے ایک نئے شعبے کی بنیاد رکھی ہے اور کینسر اور خود کار امراض جیسے بیماریوں کے لیے نئی علاج معالجہ کی راہیں کھولی ہیں۔
اس کے بعد منگل 7 اکتوبر کو فزکس کے شعبے میں انعام کا اعلان رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز اسٹاک ہوم میں کیا جائے گا۔
بدھ کو کیمسٹری کے شعبے کا انعام بھی اسی ادارے کی جانب سے دیا جائے گا۔
جمعرات کو ادب کا نوبل انعام سویڈش اکیڈمی اسٹاک ہوم کی طرف سے دیا جائے گا جو ادب کے شائقین کے لیے ایک خاص موقع ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ انتظار کیے جانے والا امن کا نوبل انعام جمعہ کو نارویجن نوبل کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے نارویجن نوبل انسٹیٹیوٹ اوسلو (ناروے) میں پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی پاکستان کیوں آئیں؟
آخر میں پیر 13 اکتوبر کو معاشیات کے شعبے میں نوبل انعام کا اعلان بھی رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز، اسٹاک ہوم کی جانب سے کیا جائے گا۔
ان تمام اعلانات کے بعد نوبل انعامات کی رسمی تقریب 10 دسمبر کو منعقد ہوگی جو سویڈن کے مشہور سائنسدان اور موجد الفریڈ نوبل کی وفات کی سالگرہ ہے۔
نوبل انعام کب سے دیا جا رہا ہے، شعبے کتنے ہیں؟نوبل انعام دییے جانے کی روایت سنہ 1901 سے چلی آرہی ہے۔ منصوبے کے مطابق ابتدا میں 5 شعبوں کے لیے نوبل انعامات رکھے گئے تھے لیکن بعد میں اس میں معاشیات کو چھٹی کٹیگری کے طور پر شامل کرلیا گیا۔
نوبل انعام کا خیال اور منصوبہ سنہ 1895 میں شروع ہوا جب الفریڈ نوبل نے اپنی وصیت میں اپنی دولت کا بڑا حصہ ایک فنڈ کے لیے مختص کر دیا تھا تاکہ ہر سال ایسے افراد کو انعامات دیے جائیں جنہوں نے انسانیت کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہو۔ لیکن ان کی وفات 10 دسمبر 1896 کو ہوئی اور وصیت پر عمل درآمد کے لیے قانونی، خاندانی اور انتظامی معاملات طے ہونے میں وقت لگا لہٰذا پہلا نوبل انعام باضابطہ طور پر سال 1901 میں دیا گیا۔
ہر نوبل انعام یافتہ شخصیت کو ایک گولڈ میڈل، ایک ڈپلومہ اور ایک نقد انعام دیا جاتا ہے جو نوبل فاؤنڈیشن کے زیر انتظام فنڈ سے دیا جاتا ہے۔
سال 2025 کے لیے نوبل انعام کی نقد رقم 11 ملین سویڈش کرون یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔
مزید پڑھیں: سابق نوبل انعام یافتہ امریکی صدر جمی کارٹر انتقال کر گئے، ان کی پاکستان کے ساتھ کون سی یاد وابستہ ہے؟
یہ انعامات 10 دسمبر کو ایک پروقار تقریب میں پیش کیے جائیں گے جو الفریڈ نوبل کی وفات کی سالگرہ کے موقعے پر منعقد کی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الفریڈ نوبل نوبل انعام نوبل انعام 2025.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الفریڈ نوبل کی جانب سے کے شعبے جائے گا کے لیے سے دیا
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔