فلسطینیوں کی نسل کشی؛ اٹلی کی وزیراعظم کیخلاف عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ دائر
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
بین الاقوامی فوجداری عدالت میں دائر ایک مقدمے میں اٹلی کی وزیر اعظم جیورجیا میلونی پر غزہ کے فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرکے معاونت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کی وزیر اعظم جیورجیا میلونی نے تصدیق کی کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ یکم اکتوبر کو تقریباً 50 وکلا، قانون کے ماہرین اور سرکردہ عوامی شخصیات نے دائر کیا ہے۔
ان کے بقول مقدمے میں اٹلی کے وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو، وزیر خارجہ انتونیو تاجانی اور اسلحہ ساز کمپنی لیونارڈو کے سربراہ روبرتو چنگولانی کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں اور نسل کشی میں معاونت کا الزام کیا گیا ہے۔
شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ اٹلی نے اسرائیل کو مہلک ہتھیار فراہم کیے جسے غزہ میں جاری جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
مقدمے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے خلاف اس شکایت کی باقاعدہ تحقیقات کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اٹلی کی وزیراعظم نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ میری نظر میں اس نوعیت کی شکایت کی دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔
تاہم اطالوی وزیر دفاع کروسیٹو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ صرف اُن معاہدوں کے تحت کی جا رہی ہیں جو 7 اکتوبر 2023 سے پہلے یعنی غزہ جنگ سے پہلے طے پائے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود اٹلی نے اسرائیل سے یقین دہانی لی ہے کہ یہ ہتھیار شہریوں کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے۔
اس سے قبل اطالوی وزیر خارجہ تاجانی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اٹلی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران اٹلی ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جنہوں نے اسرائیل کو بڑی تعداد میں ہتھیار فراہم کیے ہیں۔
جن میں ہیلی کاپٹر اور بحری توپیں شامل بھی ہیں۔ علاوہ ازیں امریکا کی قیادت میں اٹلی ایف- 35 طیاروں کے پرزہ جات تیار کرنے والے ممالک میں بھی شامل ہے۔
اس شکایت کا اندراج ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف بھی آئی سی سی نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ تاہم ان پر "نسل کشی" کے الزامات عائد نہیں کیے گئے۔
علاوہ ازیں، عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں جنوبی افریقا نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا ہے، جبکہ نکاراگوا نے جرمنی پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے تھے، مگر اپریل 2025 میں عدالت نے اس کیس کو آگے بڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکا جو اسرائیل کو سب سے زیادہ ہتھیار فراہم کرتا ہے، آئی سی سی کا رکن نہیں اور اس نے عدالت کی کارروائیوں کی شدید مخالفت کی ہے۔
حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تین فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کیں جنہوں نے آئی سی سی میں اسرائیلی حکام کے خلاف تحقیقات میں کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جانب، اٹلی میں حالیہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں وزیراعظم میلونی کے پوسٹرز اٹھائے گئے جن پر انہیں "نسل کشی کی معاون" قرار دیا گیا تھا۔
آئی سی سی میں درج یہ معاملہ اٹلی کی حکومت کے لیے نہ صرف عوامی دباؤ بڑھا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی قانونی اور سفارتی مشکلات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اٹلی کی وزیر اسرائیل کو نے اسرائیل کے خلاف
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔