Jasarat News:
2026-07-24@03:11:21 GMT

دو ریاستی حل یا صرف فلسطینی ریاست؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

دو ریاستی حل یا صرف فلسطینی ریاست؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251009-03-5
متین فکری
امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے اپنا 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا جس میں متعدد باتیں قابل قبول تھیں۔ جن نکات پر اختلاف رائے تھا ان پر مذاکرات ہوسکتے تھے اور انہیں قابل قبول بنایا جاسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ترکی سمیت تمام عرب ملکوں نے اسے بلا اکراہ قبول کرلیا تھا البتہ حماس کے جواب کا انتظار تھا کہ یہ امن منصوبہ منظوری کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اس کے رفقا کو پیش کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ انہوں نے یہ منصوبہ اپنے معاونین کی مدد سے اسرائیل کے تمام تر مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے اس لیے اسے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا اور وہ باآسانی اس کی منظوری دے دے گا لیکن ہوا یہ کہ نیتن یاہو اور اس کے رفقا نے منصوبے کی منظوری دینے کے بجائے اس پر شق وار غور شروع کردیا اور جہاں ضرورت محسوس کی اس میں ترمیم کرتے چلے گئے اور آخر اس ترمیم شدہ منصوبے کی منظوری کا اعلان کردیا۔ یہ منصوبہ اب اسرائیل کا ہے امریکا کا نہیں لیکن عیاری ملاحظہ ہو کہ اسے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کا نام ہی دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اسے اون کرلیا ہے تاہم عرب ممالک، پاکستان اور ترکی کے لیے یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہا کہ یہ منصوبہ اس منصوبے سے مختلف ہے جو انہیں پہلے دیا گیا تھا۔ چونکہ صدر ٹرمپ کا پائوں ان ملکوں کی گردن پہ ہے اس لیے وہ بلا اکراہ اسے قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ اس منصوبے میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو گول کردیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل ایسے کسی حل کا قائل نہیں وہ فلسطینی ریاست کے نام پر اپنے وجود کے مدمقابل کسی اور وجود کا قائل نہیں۔ بلکہ دیکھا جائے تو وہ بحیثیت قوم فلسطینیوں کے وجود ہی کو نہیں مانتا۔

مسلمان ملکوں کے اس مغلوبانہ ردعمل کے مقابلے میں حماس کا ردعمل صبر و حکمت اور دانش کا آئینہ دار ہے۔ اس نے نہ تو منصوبے کو یکسر رد کیا ہے اور نہ ہی اسے من و عن قبول کیا ہے، اس نے فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی فوری رہائی سے اتفاق کیا ہے۔ منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور غزہ سے نکل جائے۔ حماس کی قیادت جانتی ہے کہ یہ اسرائیل کی شدید خواہش ہے جسے منصوبے کی شکل میں ٹرمپ کے منہ میں ڈالا گیا ہے۔ چنانچہ حماس نے اس کا بڑی حکمت سے جواب دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب غزہ ایک غیر جانبدار فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کردیا جائے گا اور اس میں کسی غیر فلسطینی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا یعنی نہ اس میں صدر ٹرمپ کی کچھ چلے گی نہ ٹونی بلیئر کو اس میں دخل اندازی کی اجازت دی جائے گی تو حماس اپنے ہتھیار اس فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کردے گی، البتہ غزہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی کیونکہ اس کا تعلق فلسطین سے ہے اس میں کوئی غیر فلسطینی شامل نہیں۔ البتہ اسرائیل کو غزہ خالی کرنا ہوگا۔ حماس نے غزہ کے مستقبل کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے جو اسرائیل کے بس میں نہیں ہے اور نہ ہی صدر ٹرمپ اس پر آمادہ ہوں گے۔ اس طرح دیکھا جائے تو حماس کی زیرک قیادت نے صدر ٹرمپ کے منصوبے پر ’’مثبت‘‘ ردعمل ظاہر کرکے امریکا اور اسرائیل دونوں کو گھیر لیا ہے اور ان کے لیے فرار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے جبکہ مسلمان ملکوں نے منصوبے کو من و عن قبول کرکے اپنی سلامتی، اپنا وقار اور فلسطین کے بارے میں اپنے اصولی موقف کو دائو پر لگادیا ہے۔

پوری امت مسلمہ کا دیرینہ اور اصولی موقف تو یہی ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ یہ فلسطینیوں کا وطن ہے یہاں ایک آزاد خود مختار فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے لیکن مسلمان ملکوں نے متحد ہو کر کبھی اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ برطانیہ نے جب ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے ذریعے سرزمین فلسطین پر اسرائیل کے قیام کو ممکن بنایا تھا تو یہی وقت تھا جب مسلمان ممالک متحد ہو کر میدان عمل میں آ کودتے اور اسرائیل کے قیام کو ناممکن بنادیتے۔ فلسطینی بھی شدید مزاحمت کا مظاہرہ کرتے اور اپنا گھر بار چھوڑنے سے انکار کردیتے لیکن انہوں نے بھی بزدلی کا مظاہرہ کیا اور اپنی زمینوں کی قیمت وصول کرکے بے دخل ہوتے رہے۔ فلسطینی گھر سے بے گھر ہوگئے اور یہودی آباد ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے اپنی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ برطانیہ نے تو محض اسرائیل کا قیام ممکن بنایا تھا لیکن امریکا نے اس کی پرورش و پرداخت کی ذمے داری سنبھال لی اور اس حقیر وجود کو عسکری، فنی اور تکنیکی اعتبار سے ایک دیو بنا کر کھڑا کردیا۔

ایک ایسا دیو جس نے اپنے ہمسایہ عرب ملکوں کا ناطقہ بند کررکھا ہے جس نے مصر کو دھول چٹادی ہے، جس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جس نے عراق کا ایٹمی پلانٹ تباہ کردیا تھا جو مسلسل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، غزہ کی جنگ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ وہ اقوام متحدہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی سلامتی کونسل کو بھی جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ سلامتی کونسل نے یہودی بستیوں کی توسیع کے خلاف کتنی ہی قراردادیں منظور کیں لیکن اسرائیل نے کسی ایک قرار داد پر بھی عمل نہیں کیا اور فلسطینیوں کو بے دخل کرکے یہودی بستیاں قائم کرنا چلا گیا۔ غزہ کی جنگ نے جہاں اقوام عالم کو اسرائیل کے آگے بے بس کردیا ہے وہیں مسلمان ملکوں کو بھی ان کی اوقات یاد دلا دی ہے۔

اب حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے میں اسرائیل کو نظر انداز کرکے ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر اصرار کیا جائے اور مسلمان ممالک متحد ہو کر صدر ٹرمپ سے مطالبہ کریں کہ ان کا امن منصوبہ اسی وقت قابل قبول ہے جب آزاد فلسطینی ریاست کا باضابطہ اعلان کیا جائے اور اسے اقوام متحدہ کا رکن بنایا جائے۔ صدر ٹرمپ تو غزہ سے فلسطینیوں کو نکال کر اسے ایک تفریحی علاقہ بنانا چاہتے تھے لیکن مسلمان ملکوں کی دو ٹوک مخالفت کے سبب امریکی صدر کو اپنی پلاننگ سے دستبردار ہونا پڑا۔ اب یہی موقع ہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اسی کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کا نقشہ مرتب کیا جائے۔ اس وقت ایک سو پچاس ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں اب زمین پر بھی اس کا وجود قائم ہونا چاہیے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست مسلمان ملکوں ان ملکوں کیا جائے ٹرمپ کے کے قیام بھی اس دیا ہے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف