Jasarat News:
2026-06-03@02:25:58 GMT

دو ریاستی حل یا صرف فلسطینی ریاست؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

دو ریاستی حل یا صرف فلسطینی ریاست؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251009-03-5
متین فکری
امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے اپنا 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا جس میں متعدد باتیں قابل قبول تھیں۔ جن نکات پر اختلاف رائے تھا ان پر مذاکرات ہوسکتے تھے اور انہیں قابل قبول بنایا جاسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ترکی سمیت تمام عرب ملکوں نے اسے بلا اکراہ قبول کرلیا تھا البتہ حماس کے جواب کا انتظار تھا کہ یہ امن منصوبہ منظوری کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اس کے رفقا کو پیش کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ انہوں نے یہ منصوبہ اپنے معاونین کی مدد سے اسرائیل کے تمام تر مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے اس لیے اسے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا اور وہ باآسانی اس کی منظوری دے دے گا لیکن ہوا یہ کہ نیتن یاہو اور اس کے رفقا نے منصوبے کی منظوری دینے کے بجائے اس پر شق وار غور شروع کردیا اور جہاں ضرورت محسوس کی اس میں ترمیم کرتے چلے گئے اور آخر اس ترمیم شدہ منصوبے کی منظوری کا اعلان کردیا۔ یہ منصوبہ اب اسرائیل کا ہے امریکا کا نہیں لیکن عیاری ملاحظہ ہو کہ اسے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کا نام ہی دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اسے اون کرلیا ہے تاہم عرب ممالک، پاکستان اور ترکی کے لیے یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہا کہ یہ منصوبہ اس منصوبے سے مختلف ہے جو انہیں پہلے دیا گیا تھا۔ چونکہ صدر ٹرمپ کا پائوں ان ملکوں کی گردن پہ ہے اس لیے وہ بلا اکراہ اسے قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ اس منصوبے میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو گول کردیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل ایسے کسی حل کا قائل نہیں وہ فلسطینی ریاست کے نام پر اپنے وجود کے مدمقابل کسی اور وجود کا قائل نہیں۔ بلکہ دیکھا جائے تو وہ بحیثیت قوم فلسطینیوں کے وجود ہی کو نہیں مانتا۔

مسلمان ملکوں کے اس مغلوبانہ ردعمل کے مقابلے میں حماس کا ردعمل صبر و حکمت اور دانش کا آئینہ دار ہے۔ اس نے نہ تو منصوبے کو یکسر رد کیا ہے اور نہ ہی اسے من و عن قبول کیا ہے، اس نے فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی فوری رہائی سے اتفاق کیا ہے۔ منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور غزہ سے نکل جائے۔ حماس کی قیادت جانتی ہے کہ یہ اسرائیل کی شدید خواہش ہے جسے منصوبے کی شکل میں ٹرمپ کے منہ میں ڈالا گیا ہے۔ چنانچہ حماس نے اس کا بڑی حکمت سے جواب دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب غزہ ایک غیر جانبدار فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کردیا جائے گا اور اس میں کسی غیر فلسطینی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا یعنی نہ اس میں صدر ٹرمپ کی کچھ چلے گی نہ ٹونی بلیئر کو اس میں دخل اندازی کی اجازت دی جائے گی تو حماس اپنے ہتھیار اس فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کردے گی، البتہ غزہ میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی کیونکہ اس کا تعلق فلسطین سے ہے اس میں کوئی غیر فلسطینی شامل نہیں۔ البتہ اسرائیل کو غزہ خالی کرنا ہوگا۔ حماس نے غزہ کے مستقبل کے لیے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے جو اسرائیل کے بس میں نہیں ہے اور نہ ہی صدر ٹرمپ اس پر آمادہ ہوں گے۔ اس طرح دیکھا جائے تو حماس کی زیرک قیادت نے صدر ٹرمپ کے منصوبے پر ’’مثبت‘‘ ردعمل ظاہر کرکے امریکا اور اسرائیل دونوں کو گھیر لیا ہے اور ان کے لیے فرار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے جبکہ مسلمان ملکوں نے منصوبے کو من و عن قبول کرکے اپنی سلامتی، اپنا وقار اور فلسطین کے بارے میں اپنے اصولی موقف کو دائو پر لگادیا ہے۔

پوری امت مسلمہ کا دیرینہ اور اصولی موقف تو یہی ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ یہ فلسطینیوں کا وطن ہے یہاں ایک آزاد خود مختار فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے لیکن مسلمان ملکوں نے متحد ہو کر کبھی اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ برطانیہ نے جب ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے ذریعے سرزمین فلسطین پر اسرائیل کے قیام کو ممکن بنایا تھا تو یہی وقت تھا جب مسلمان ممالک متحد ہو کر میدان عمل میں آ کودتے اور اسرائیل کے قیام کو ناممکن بنادیتے۔ فلسطینی بھی شدید مزاحمت کا مظاہرہ کرتے اور اپنا گھر بار چھوڑنے سے انکار کردیتے لیکن انہوں نے بھی بزدلی کا مظاہرہ کیا اور اپنی زمینوں کی قیمت وصول کرکے بے دخل ہوتے رہے۔ فلسطینی گھر سے بے گھر ہوگئے اور یہودی آباد ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے اپنی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی۔ برطانیہ نے تو محض اسرائیل کا قیام ممکن بنایا تھا لیکن امریکا نے اس کی پرورش و پرداخت کی ذمے داری سنبھال لی اور اس حقیر وجود کو عسکری، فنی اور تکنیکی اعتبار سے ایک دیو بنا کر کھڑا کردیا۔

ایک ایسا دیو جس نے اپنے ہمسایہ عرب ملکوں کا ناطقہ بند کررکھا ہے جس نے مصر کو دھول چٹادی ہے، جس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جس نے عراق کا ایٹمی پلانٹ تباہ کردیا تھا جو مسلسل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، غزہ کی جنگ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ وہ اقوام متحدہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی سلامتی کونسل کو بھی جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ سلامتی کونسل نے یہودی بستیوں کی توسیع کے خلاف کتنی ہی قراردادیں منظور کیں لیکن اسرائیل نے کسی ایک قرار داد پر بھی عمل نہیں کیا اور فلسطینیوں کو بے دخل کرکے یہودی بستیاں قائم کرنا چلا گیا۔ غزہ کی جنگ نے جہاں اقوام عالم کو اسرائیل کے آگے بے بس کردیا ہے وہیں مسلمان ملکوں کو بھی ان کی اوقات یاد دلا دی ہے۔

اب حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے میں اسرائیل کو نظر انداز کرکے ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر اصرار کیا جائے اور مسلمان ممالک متحد ہو کر صدر ٹرمپ سے مطالبہ کریں کہ ان کا امن منصوبہ اسی وقت قابل قبول ہے جب آزاد فلسطینی ریاست کا باضابطہ اعلان کیا جائے اور اسے اقوام متحدہ کا رکن بنایا جائے۔ صدر ٹرمپ تو غزہ سے فلسطینیوں کو نکال کر اسے ایک تفریحی علاقہ بنانا چاہتے تھے لیکن مسلمان ملکوں کی دو ٹوک مخالفت کے سبب امریکی صدر کو اپنی پلاننگ سے دستبردار ہونا پڑا۔ اب یہی موقع ہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اسی کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کا نقشہ مرتب کیا جائے۔ اس وقت ایک سو پچاس ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں اب زمین پر بھی اس کا وجود قائم ہونا چاہیے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست مسلمان ملکوں ان ملکوں کیا جائے ٹرمپ کے کے قیام بھی اس دیا ہے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا