شاہ فیصل کالونی پارک سے متصل اراضی پر تعمیرات کیخلاف حکم امتناع جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251009-08-10
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)شاہ فیصل کالونی میں پارک کی زمین پر قبضے کے خلاف درخواست کی سماعت، عدالت نے پارک سے متصل متنازع اراضی پر تعمیرات پر حکم امتناع جاری کردیا۔سندھ ہائیکورٹ میں شاہ فیصل کالونی میں پارک کی زمین پر قبضے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے آئندہ سماعت پر شاہ فیصل ٹاؤن کا ماسٹر پلان طلب کرلیا جبکہ واٹر کارپوریشن کی کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور کرلی، عدالت نے فریقین کو جواب کی نقول واٹر کارپوریشن کے وکیل کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ،ایڈیشنل کمشنر کراچی نے انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہاگیا کہ ستمبر کو تمام فریقین کی موجودگی میں دوبارہ ڈیمارکیشن کی گئی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے بھی متنازع جگہ پر ملکیت کا دعویٰ کیا ہے، مختیار کار کے ریکارڈ کے مطابق زمین مختلف لوگوں کے نام پر ہے، واٹر کارپوریشن کے مطابق 70 کی دہائی میں 48 انچ کی سپلائی لائن اور 18 انچ کی ڈسٹری بیوشن لائن بچھائی گئی تھی، واٹر کارپوریشن کی جانب سے زمین کے حصول یا اپروول پلان سے متعلق کوئی دستاویز پیش نہیں کیے گئے، ڈائریکٹر لینڈ کے مطابق مذکورہ جگہ پر پارکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پارک بنا کر ٹی ایم سی شاہ فیصل کے حوالے کیا گیا، زمین پر ملکیت کا دعویٰ کرنے والے تمام متعلقہ ادارے دستاویزی شواہد پیش نہیں کرسکے، نجی افراد کی ملکیت سے متعلق ریوینیو ریکارڈ کی حمایت مختیار کار کی رپورٹ کرتی ہے، قائد پارک اپنی اصل حالت میں موجود ہے، پارک سے متصل متنازع جگہ پر کوئی تعمیرات نہیں ہیں، درخواست گزار کے وکیل عثمان فارق کاکہنا تھا کہ شاہ فیصل کالونی کے قائد اعظم پارک پر نامعلوم افراد کی جانب سے قبضے کی کوشش کی جارہی ہے، کے ایم سی نے مذکورہ پارک کا کنٹرول ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کو منتقل کیا تھا، مبینہ طورپر پارک کے گرد دیوار بنا کر غیر قانونی تعمیرات کی جارہی تھی، ڈی جی پارکس، کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام کو شکایت کے باوجود کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈننس کے تحت رفاہی پلاٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، رفاہی پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف عدالت عظمیٰ کے بھی متعدد فیصلے موجود ہیں، قائد اعظم پارک میں تجاوزات اور تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیا جائے، کے ایم سی، کمشنر کراچی، پولیس و دیگر کو تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا جائے، فریقین کو پارک کی اراضی کسی مقصد کے استعمال سے روکنے کا حکم دیا جائے، درخواست چیئرمین یوسی 2 الفلاح شاہ فیصل ٹاؤن سیف الدین نے دائر کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہ فیصل کالونی واٹر کارپوریشن
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔