بی جے پی کو خود دس برسوں کا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہیئے، سکینہ ایتو
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وزیر صحت و طبی تعلیم نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو امید ہے کہ سپریم کورٹ عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کریگی اور جلد از جلد ریاستی حیثیت بحال کریگی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نیشنل کانفرنس سے رپورٹ کارڈ مانگنے سے قبل خود کی دس سالہ حکمرانی کا رپورٹ کارڈ عوام کے سامنے پیش کرنے پر زور دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی لیڈر کا یہ بیان بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر سنیل شرما کے بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے عمر عبداللہ والی نیشنل کانفرنس کی حکومت سے ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کرنے کے بجائے عوامی خدمت کرنے اور ایک سال کے اندر اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ بے شمار رکاوٹوں اور چیلنجز کے باوجود نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے گزشتہ ایک سال میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے اور متعدد اہم سنگ میل بھی عبور کیے ہیں۔
سکینہ ایتو نے زور دیا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نے بی جے پی کی جانب سے حائل کی گئی رکاوٹوں کے باوجود کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نے کلیدی منصوبوں پر عمل درآمد میں جو کامیابی حاصل کی، وہ عوامی فلاح کے لئے نیشنل کانفرنس کے غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے عوامی بہبود کے لئے ہر محاذ پر دن رات کام کیا ہے۔ متعدد ترقیاتی منصوبے، بالخصوص وہ جو بنیادی ڈھانچے اور فلاحی اسکیموں سے متعلق ہیں، براہ راست دہلی سے منظور کئے جاتے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مودی حکومت خطے کی ترقی پر کتنا اثر رکھتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان منصوبوں میں کسی بھی تاخیر کی ذمہ دار بی جے پی ہے۔ سکینہ ایتو نے بی جے پی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے پاس 28 ایم ایل ایز ہیں اور انہیں بھی اپنا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کو امید ہے کہ سپریم کورٹ عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرے گی اور جلد از جلد ریاستی حیثیت بحال کرے گی۔ دریں اثناء سکینہ ایتو نے کھانسی کی ادویات اور دیگر مصنوعات کے استعمال پر بڑھتی تشویش، خاص طور پر حالیہ دنوں میں بعض ریاستوں میں سامنے آنے والے تنازعات کے تناظر میں کہا کہ میں نے متعلقہ حکام کو پہلے ہی ہدایت دی ہے کہ کھانسی کی ادویات کے حوالہ سے احتیاط اور ایس او پیز کو ملحوظ رکھیں۔ وزیر صحت نے ذہنی صحت کی اہمیت پر بھی زور دیا، خصوصاً طبی شعبے سے وابستہ افراد کے لئے جنہیں کام کے دوران بیشتر اوقات انتہائی سخت تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کسی بھی پیشہ ورانہ مقصد کے حصول کی بنیاد ہے اور یہ ڈاکٹروں اور میڈیکل طلبہ دونوں کے لئے ترجیح ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خاص طور پر طبی شعبے کے افراد کے لئے تناؤ کے انتظام پر توجہ دینی چاہیئے، کیونکہ ان کے روزمرہ کے چیلنجز اکثر حد سے زیادہ ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نیشنل کانفرنس کی حکومت انہوں نے کہا کہ رپورٹ کارڈ بی جے پی زور دیا کے لئے
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔