کیا واقعی ایسا ہی ہونے جارہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنا سیاسی ورثہ اگلی نسل میں منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے اور مناسب وقت تک پارٹی کی مکمل لگام اور باگ دوڑ، نظم و نسق مریم نوازشریف کے سپرد کردیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہوجائے، مگر یہ فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے وہ اپنی بند مٹھی کب کھولتے ہیں یہ صرف وہ جانتے ہیں۔ کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر سے آنے والی ہوا حالات کا رُخ ضرور بتا رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ملک کی وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہی ہیں اور اس فیصلے پر اس وقت عمل درآمد ہوگا جب شریف خاندان نے اس منصب کے لیے اگلی نسل تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اس وقت پارٹی شہباز شریف اور مریم نواز شریف کی پرفارمنس سے خوش اور مطمئن ہے اور اگر نواز شریف کا وزیر اعظم کے منصب پر آنے کا کوئی ارادہ ہے تو ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے نوازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز شریف میں خاندان کا سیاسی ورثہ سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ اس اطلاع پر ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ اعتراض ہونا چاہیے تاہم کچھ سوالات ضرور ہیں جن کا جواب ملنا چاہئیں۔
پنجاب کا شہر راولپنڈی ایک واحد شہر جس کی حد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اس لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کو جڑواں شہر میں کہا جاتا ہے مگر راولپنڈی میں دو طرح کے منظر نامے ہیں۔ پہلا منظر نامہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ تجاوزات پر زیرو ٹالرنس ہوگی۔ اس بارے میں چند ہفتے کام ہوا مگر آج پھر سے شہر میں تجاوزات ہیں، کوئی سڑک ایسی نہیں جہاں تجاوزات نہ ہوں بلکہ پارکس تک میں چائنا کٹنگ کی جارہی ہے اس میں مسلم لیگ ملوث ہے یا اس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ شہر کے چند جہاں دیدہ افراد (جن کے نام یہاں افشاء کرنا مناسب نہیں) نے مل کر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ اگر یہ چند لوگ بے سروسامانی میں آنکھیں کھلی رکھ کر شہر کے حسن کے خلاف کی جانے والی کارروائی روکنے کا باعث بن سکتے ہیں تو پھر مسلم لیگ کی مقامی قیادت اور ضلعی انتظامیہ یہ کام اختیارات کی وجہ سے زیادہ بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ کیوں نہیں کر رہی یہ اب ضلعی انتظامیہ اور مسلم لیگ کی مقامی قیادت ہی بتا سکتی ہے‘ شہر میں چوریاں، جرائم کی وارداتیں، ون وے کی خلاف ورزی معمول ہے۔ تجاوزات تو دوبارہ اس طرح اُگ آئی ہیں جیسے برسات کے بعد گھاس اور جڑی بوٹیاں اُگ آتی ہیں۔ بس مسلم لیگ کی مقامی قیادت اسی میں خوش رہتی ہے کہ انہیں ان کے پیارے ’’کسٹوڈین آف مسلم لیگ‘‘ لکھتے اور کہتے رہتے ہیں۔
کیا مسلم لیگ کے کسٹوڈین کہلانے والے راہنماء شہر میں ہونے والی جرائم کی وارداتوں کو روکنے کے لیے آگے نہیں بڑھ سکتے؟ کیا یہ لوگ شہر میں تجاوزات ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے کتراتے ہیں یا گریز کرتے ہیں؟ کیا یہ لوگ شہر میں بے ہنگم ٹریفک کو کسی نظم و ضبط میں لانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی مدد کو آگے آنے کو تیار ہیں؟ ان کی خاموشی راولپنڈی کے شہریوں کی ترقی، خوشحالی اور انہیں ایک بہتر ماحول دینے کی بھرپور کوشش کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے کردار میں مزید نکھا رلانے کے بجائے ایک رکاوٹ کے طور پر کیوں نظر آرہا ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوششوں سے راجا بازار میں بجلی کا نظام انڈر گرائونڈ کیا جارہا ہے مگر کسی نے یہ چیک کرنے کی زحمت کی کہ مٹیریل کیسا استعمال ہورہا ہے؟ مسلم لیگ کی مقامی قیادت وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات کی اونر شپ کیوں نہیں لے رہی؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے یہ بہترین کاوش شہریوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے اگر نگرانی کا عمل فول پروف ہو تو بھلا کسی کی کیا مجال ہے کہ وہ ناقص مٹیریل استعمال کرسکے یہ سب کچھ کرپٹ نظام کے ساتھ سمجھوتوں کی داستان ہے۔
مگر وزیر اعلیٰ پنجاب، راولپنڈی کے شہری، ترقیاتی منصوبوں کو ڈوبتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ راولپنڈی کی ترقی کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے فیصلوں کا سقوط ان سے برداشت نہیں ہوگا۔ شہری سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کرپشن کے خلاف ایک سخت چٹان ہیں تو پھر یہ چٹان صحرا کے ٹیلوں، جن کی زندگی صرف اور صرف ہوا کے رُخ کی مرہون منت ہوتی ہے، کے سامنے بے بس کیوں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسلم لیگ کی مقامی قیادت مریم نواز وزیر اعلی نواز شریف کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔