Jasarat News:
2026-07-24@05:56:31 GMT

کیا واقعی ایسا ہی ہونے جارہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251010-03-3

 

میاں منیر احمد

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنا سیاسی ورثہ اگلی نسل میں منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے اور مناسب وقت تک پارٹی کی مکمل لگام اور باگ دوڑ، نظم و نسق مریم نوازشریف کے سپرد کردیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہوجائے، مگر یہ فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے وہ اپنی بند مٹھی کب کھولتے ہیں یہ صرف وہ جانتے ہیں۔ کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر سے آنے والی ہوا حالات کا رُخ ضرور بتا رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ملک کی وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہی ہیں اور اس فیصلے پر اس وقت عمل درآمد ہوگا جب شریف خاندان نے اس منصب کے لیے اگلی نسل تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اس وقت پارٹی شہباز شریف اور مریم نواز شریف کی پرفارمنس سے خوش اور مطمئن ہے اور اگر نواز شریف کا وزیر اعظم کے منصب پر آنے کا کوئی ارادہ ہے تو ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے نوازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز شریف میں خاندان کا سیاسی ورثہ سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ اس اطلاع پر ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ اعتراض ہونا چاہیے تاہم کچھ سوالات ضرور ہیں جن کا جواب ملنا چاہئیں۔

پنجاب کا شہر راولپنڈی ایک واحد شہر جس کی حد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اس لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کو جڑواں شہر میں کہا جاتا ہے مگر راولپنڈی میں دو طرح کے منظر نامے ہیں۔ پہلا منظر نامہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ تجاوزات پر زیرو ٹالرنس ہوگی۔ اس بارے میں چند ہفتے کام ہوا مگر آج پھر سے شہر میں تجاوزات ہیں، کوئی سڑک ایسی نہیں جہاں تجاوزات نہ ہوں بلکہ پارکس تک میں چائنا کٹنگ کی جارہی ہے اس میں مسلم لیگ ملوث ہے یا اس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ شہر کے چند جہاں دیدہ افراد (جن کے نام یہاں افشاء کرنا مناسب نہیں) نے مل کر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ اگر یہ چند لوگ بے سروسامانی میں آنکھیں کھلی رکھ کر شہر کے حسن کے خلاف کی جانے والی کارروائی روکنے کا باعث بن سکتے ہیں تو پھر مسلم لیگ کی مقامی قیادت اور ضلعی انتظامیہ یہ کام اختیارات کی وجہ سے زیادہ بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ کیوں نہیں کر رہی یہ اب ضلعی انتظامیہ اور مسلم لیگ کی مقامی قیادت ہی بتا سکتی ہے‘ شہر میں چوریاں، جرائم کی وارداتیں، ون وے کی خلاف ورزی معمول ہے۔ تجاوزات تو دوبارہ اس طرح اُگ آئی ہیں جیسے برسات کے بعد گھاس اور جڑی بوٹیاں اُگ آتی ہیں۔ بس مسلم لیگ کی مقامی قیادت اسی میں خوش رہتی ہے کہ انہیں ان کے پیارے ’’کسٹوڈین آف مسلم لیگ‘‘ لکھتے اور کہتے رہتے ہیں۔

کیا مسلم لیگ کے کسٹوڈین کہلانے والے راہنماء شہر میں ہونے والی جرائم کی وارداتوں کو روکنے کے لیے آگے نہیں بڑھ سکتے؟ کیا یہ لوگ شہر میں تجاوزات ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے کتراتے ہیں یا گریز کرتے ہیں؟ کیا یہ لوگ شہر میں بے ہنگم ٹریفک کو کسی نظم و ضبط میں لانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی مدد کو آگے آنے کو تیار ہیں؟ ان کی خاموشی راولپنڈی کے شہریوں کی ترقی، خوشحالی اور انہیں ایک بہتر ماحول دینے کی بھرپور کوشش کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے کردار میں مزید نکھا رلانے کے بجائے ایک رکاوٹ کے طور پر کیوں نظر آرہا ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوششوں سے راجا بازار میں بجلی کا نظام انڈر گرائونڈ کیا جارہا ہے مگر کسی نے یہ چیک کرنے کی زحمت کی کہ مٹیریل کیسا استعمال ہورہا ہے؟ مسلم لیگ کی مقامی قیادت وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات کی اونر شپ کیوں نہیں لے رہی؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے یہ بہترین کاوش شہریوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے اگر نگرانی کا عمل فول پروف ہو تو بھلا کسی کی کیا مجال ہے کہ وہ ناقص مٹیریل استعمال کرسکے یہ سب کچھ کرپٹ نظام کے ساتھ سمجھوتوں کی داستان ہے۔

مگر وزیر اعلیٰ پنجاب، راولپنڈی کے شہری، ترقیاتی منصوبوں کو ڈوبتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ راولپنڈی کی ترقی کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے فیصلوں کا سقوط ان سے برداشت نہیں ہوگا۔ شہری سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کرپشن کے خلاف ایک سخت چٹان ہیں تو پھر یہ چٹان صحرا کے ٹیلوں، جن کی زندگی صرف اور صرف ہوا کے رُخ کی مرہون منت ہوتی ہے، کے سامنے بے بس کیوں ہے۔

میاں منیر احمد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلم لیگ کی مقامی قیادت مریم نواز وزیر اعلی نواز شریف کے لیے

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا