Jasarat News:
2026-06-03@03:36:39 GMT

کیا واقعی ایسا ہی ہونے جارہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251010-03-3

 

میاں منیر احمد

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنا سیاسی ورثہ اگلی نسل میں منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے اور مناسب وقت تک پارٹی کی مکمل لگام اور باگ دوڑ، نظم و نسق مریم نوازشریف کے سپرد کردیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہوجائے، مگر یہ فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے وہ اپنی بند مٹھی کب کھولتے ہیں یہ صرف وہ جانتے ہیں۔ کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر سے آنے والی ہوا حالات کا رُخ ضرور بتا رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ملک کی وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہی ہیں اور اس فیصلے پر اس وقت عمل درآمد ہوگا جب شریف خاندان نے اس منصب کے لیے اگلی نسل تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اس وقت پارٹی شہباز شریف اور مریم نواز شریف کی پرفارمنس سے خوش اور مطمئن ہے اور اگر نواز شریف کا وزیر اعظم کے منصب پر آنے کا کوئی ارادہ ہے تو ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے نوازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ مریم نواز شریف میں خاندان کا سیاسی ورثہ سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ اس اطلاع پر ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ اعتراض ہونا چاہیے تاہم کچھ سوالات ضرور ہیں جن کا جواب ملنا چاہئیں۔

پنجاب کا شہر راولپنڈی ایک واحد شہر جس کی حد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اس لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کو جڑواں شہر میں کہا جاتا ہے مگر راولپنڈی میں دو طرح کے منظر نامے ہیں۔ پہلا منظر نامہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا تھا کہ تجاوزات پر زیرو ٹالرنس ہوگی۔ اس بارے میں چند ہفتے کام ہوا مگر آج پھر سے شہر میں تجاوزات ہیں، کوئی سڑک ایسی نہیں جہاں تجاوزات نہ ہوں بلکہ پارکس تک میں چائنا کٹنگ کی جارہی ہے اس میں مسلم لیگ ملوث ہے یا اس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ شہر کے چند جہاں دیدہ افراد (جن کے نام یہاں افشاء کرنا مناسب نہیں) نے مل کر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ اگر یہ چند لوگ بے سروسامانی میں آنکھیں کھلی رکھ کر شہر کے حسن کے خلاف کی جانے والی کارروائی روکنے کا باعث بن سکتے ہیں تو پھر مسلم لیگ کی مقامی قیادت اور ضلعی انتظامیہ یہ کام اختیارات کی وجہ سے زیادہ بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ کیوں نہیں کر رہی یہ اب ضلعی انتظامیہ اور مسلم لیگ کی مقامی قیادت ہی بتا سکتی ہے‘ شہر میں چوریاں، جرائم کی وارداتیں، ون وے کی خلاف ورزی معمول ہے۔ تجاوزات تو دوبارہ اس طرح اُگ آئی ہیں جیسے برسات کے بعد گھاس اور جڑی بوٹیاں اُگ آتی ہیں۔ بس مسلم لیگ کی مقامی قیادت اسی میں خوش رہتی ہے کہ انہیں ان کے پیارے ’’کسٹوڈین آف مسلم لیگ‘‘ لکھتے اور کہتے رہتے ہیں۔

کیا مسلم لیگ کے کسٹوڈین کہلانے والے راہنماء شہر میں ہونے والی جرائم کی وارداتوں کو روکنے کے لیے آگے نہیں بڑھ سکتے؟ کیا یہ لوگ شہر میں تجاوزات ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے کتراتے ہیں یا گریز کرتے ہیں؟ کیا یہ لوگ شہر میں بے ہنگم ٹریفک کو کسی نظم و ضبط میں لانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی مدد کو آگے آنے کو تیار ہیں؟ ان کی خاموشی راولپنڈی کے شہریوں کی ترقی، خوشحالی اور انہیں ایک بہتر ماحول دینے کی بھرپور کوشش کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے کردار میں مزید نکھا رلانے کے بجائے ایک رکاوٹ کے طور پر کیوں نظر آرہا ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوششوں سے راجا بازار میں بجلی کا نظام انڈر گرائونڈ کیا جارہا ہے مگر کسی نے یہ چیک کرنے کی زحمت کی کہ مٹیریل کیسا استعمال ہورہا ہے؟ مسلم لیگ کی مقامی قیادت وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات کی اونر شپ کیوں نہیں لے رہی؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے یہ بہترین کاوش شہریوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے اگر نگرانی کا عمل فول پروف ہو تو بھلا کسی کی کیا مجال ہے کہ وہ ناقص مٹیریل استعمال کرسکے یہ سب کچھ کرپٹ نظام کے ساتھ سمجھوتوں کی داستان ہے۔

مگر وزیر اعلیٰ پنجاب، راولپنڈی کے شہری، ترقیاتی منصوبوں کو ڈوبتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ راولپنڈی کی ترقی کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے فیصلوں کا سقوط ان سے برداشت نہیں ہوگا۔ شہری سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کرپشن کے خلاف ایک سخت چٹان ہیں تو پھر یہ چٹان صحرا کے ٹیلوں، جن کی زندگی صرف اور صرف ہوا کے رُخ کی مرہون منت ہوتی ہے، کے سامنے بے بس کیوں ہے۔

میاں منیر احمد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلم لیگ کی مقامی قیادت مریم نواز وزیر اعلی نواز شریف کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا