data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: جامعہ کراچی میں آج بروز جمعہ صبح تقریباً ۹ بجے ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جب سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ شعبہ ریاضی کے قریب پوائنٹ کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئی،  عینی شاہدین کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب طالبہ یونیورسٹی پوائنٹ میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک توازن بگڑنے کے باعث وہ گاڑی کے نیچے آ گئی۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔

تفصیلات کےمطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی جامعہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، طلبہ و طالبات نے ایڈمن بلاک کے سامنے شدید احتجاج کیا اور جامعہ انتظامیہ سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ سمیت مختلف طلبہ تنظیموں نے بھی احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے اور ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں چشم دید طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔

دوسری جانب احتجاج کے دوران کچھ شرپسند عناصر نے صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی اور جامعہ کے ماحول میں انتشار پھیلانے کی ناپسندیدہ کوشش کی،  بعض عناصر کی جانب سے اساتذہ پر حملہ اور پوائنٹس میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کی اسلامی جمعیت طلبہ نے شدید مذمت کی ہے۔

پولیس نے واقعے میں ملوث پوائنٹ اور ڈرائیور کو مبینہ ٹاؤن تھانے میں اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے،  وائس چانسلر نے طلبہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ جامعہ انتظامیہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرے گی اور کسی بھی ذمہ دار کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی

واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔

پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت