فائل فوٹوز

وزیرآباد کے علاقے کالا سکّے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں نئی نویلی دلہن رخسار کو مبینہ طور پر اس کے سسرالیوں نے تیزاب پلا کر قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ کی رہائشی رخسار کی شادی 12 ستمبر 2025ء کو کالا سکّے کے رہائشی الطاف حسین سے ہوئی تھی، مقتولہ کے اہلِ خانہ کے مطابق شادی کے کچھ ہی دن بعد رخسار کے سسرالی اس بات پر برہم ہو گئے کہ وہ جہیز میں کپڑے نہیں لائی تھی۔

رپورٹس کے مطابق رخسار کی ساس اور دیور نے اسے طعنے دینا شروع کر دیے، مقتولہ کے بھائی نے الزام لگایا کہ اس کی بہن کو شوہر الطاف حسین اور ساس نے زبردستی تیزاب پلایا۔

بھارت: سسرالیوں نے جہیز کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر دلہن کو تیزاب پلا کر مار ڈالا

بھارت سے یکے بعد دیگرے جہیز کے بھاری بھرکم مطالبات پورے نہ ہونے پر بہوؤں کو جان سے مار دینے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

واقعے کے بعد رخسار کو تشویشناک حالت میں ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال (ڈی ایچ کیو) منتقل کیا گیا، تاہم وہ اسپتال پہنچنے پر دم توڑ گئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی احمد نگر چھٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شوہر الطاف حسین اور اس کی والدہ کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں ملزم نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ رخسار نے خود تیزاب پیا، ہم نے اسے مجبور نہیں کیا۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ مقتولہ کے اہلِ خانہ نے انصاف کی اپیل کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق