ہنڈائی پاکستان نے ایلانٹرا 2.0 لمیٹڈ ایڈیشن متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ہنڈائی پاکستان نے اپنی مقبول سیڈان گاڑی ایلانٹرا 2.0 لمیٹڈ ایڈیشن باضابطہ طور پر متعارف کرا دی ہے، جو جدید خصوصیات اور منفرد ڈیزائن اپ گریڈز کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق، ایلانٹرا لمیٹڈ ایڈیشن کی بکنگ ملک بھر میں ہنڈائی ڈیلرشپس پر شروع ہوچکی ہے، جس کی ابتدائی قیمت 68 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔نئی ایلانٹرا میں 2.
ڈرائیورز اپنی پسند کے مطابق چار مختلف ڈرائیونگ موڈز میں سے انتخاب کرسکتے ہیں۔انٹیریئر کے لیے ہنڈائی نے تین نئے رنگی آپشنز متعارف کرائے ہیں: Imperial Burgundy، Regal Cappuccino، اور Nobel Beige، جو کیبن کو زیادہ پُرکشش اور نفیس بناتے ہیں۔
لمیٹڈ ایڈیشن میں خصوصی اپ گریڈز جیسے اسپورٹی ریئر اسپوئلر، بلیک سائیڈ مررز، ڈور وائزز، ٹرنک میٹ، اور شارک فن اینٹینا شامل کیے گئے ہیں، جو گاڑی کو مزید پریمیئم اور اسپورٹی لک دیتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق، ایلانٹرا 2.0 لمیٹڈ ایڈیشن ہنڈائی کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت صارفین کو جدید فیچرز، بہترین کارکردگی، اور دلکش اسٹائلنگ کے امتزاج کے ساتھ پاکستانی سیڈان مارکیٹ میں بہتر انتخاب فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔