لاہور میں پاکستان کے سب سے بڑے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
لاہور میں پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری دے دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کر لیا ہے۔ منصوبے کے تحت سیوریج واٹر کو صاف کر کے دریائے راوی میں ڈالا جائے گا۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ نے بتایا کہ منصوبے کے لیے بابو صابو کے مقام پر 836 ایکڑ اراضی سال 1992-93 میں حاصل کی گئی تھی۔ بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے کا کل تخمینہ لاگت 52 ارب روپے ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں کینٹ ڈرین، ملتان روڈ اور گلشن راوی کے سیوریج کو صاف کیا جا سکے گا جس کے لیے منصوبہ فرانس کے ڈونر ادارے اے ایف ڈی کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔
مزید برآں پہلے مرحلے میں یومیہ 88 ملین گیلن پانی صاف کیا جا سکے گا۔ اس منصوبے کی کل استعداد یومیہ 198 ملین گیلن ہو گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ تقریباََ ساڑھے چار سال میں مکمل کیا جائے گا۔ لاہور کا سیوریج، ڈسپوزل سے پہلے مکمل طور پر صاف کرنے کے لیے کل 6 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس درکار ہونگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔