وزیرِ خزانہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلئے امریکا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک (ڈبلیو بی) کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہو گئے ہیں۔
سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب آئی ایم ایف کے مشن نے پاکستانی حکام کے ساتھ 8 ارب 40 کروڑ ڈالر کے 2 قرضہ جاتی پروگراموں کے جائزے پر بات چیت مکمل کر لی ہے، تاہم عملے کی سطح پر معاہدے (اسٹاف لیول ایگریمنٹ) کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایک روز قبل وزیرِ خزانہ نے امید ظاہر کی تھی کہ واشنگٹن کے دورے کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ یہ معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ خزانہ اپنے 6 روزہ دورہ امریکا کے دوران 65 سے زائد تقریبات، فورمز، اجلاسوں اور ملاقاتوں میں شرکت کریں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران وزیرِ خزانہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے عمومی اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق محمد اورنگزیب آئی ایم ایف، عالمی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (ایم آئی جی اے) کے سینئر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ خزانہ عالمی بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کریں گے، اور ان کے خصوصی دعوت نامے پر منتخب ممالک کے وزرائے خزانہ کے ساتھ عشائیے میں بھی شریک ہوں گے۔
ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ وزیرِ خزانہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کریں گے، جو جی-24 اجلاس اور مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (ایم ای این اے پی) ممالک کے پلیٹ فارم کے موقع پر ہوگی۔
وہ میناپ فورم میں بطورِ کلیدی مقرر خطاب بھی کریں گے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وزیر خزانہ عالمی بینک کے زیرِ اہتمام فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹل تبدیلی پر ایک علاقائی گول میز اجلاس میں بھی شریک ہوں گے، جہاں دیگر ممالک کے ٹیکس حکام اپنی ٹیکس اصلاحات پر بات چیت کریں گے۔
اس کے علاوہ، وزیرِ خزانہ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے 2 دیگر پروگراموں میں بھی شرکت کریں گے اور چین، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ اور آذربائیجان کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ محمد اورنگزیب کی وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام، امریکی محکمہ خارجہ و خزانہ، اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے سینئر حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، اس کے علاوہ وہ امریکی کانگریس کی فنانشل سروسز کمیٹی کے چیئرمین سے بھی ملاقات کریں گے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق دورے کے دوران وزیرِ خزانہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، کمرشل بینکوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری بینکوں کے حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
وزیرِ خزانہ امریکا کے معروف تحقیقی اداروں، اٹلانٹک کونسل اور پیٹرسن انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنامکس (پی آئی آئی ای) کا بھی دورہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریڈیو پاکستان عالمی بینک کے آئی ایم ایف کے دوران کے مطابق کریں گے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ