پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کا ذمہ دار عمران خان ہے، مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کا ذمہ دار عمران خان ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے دہشت گردوں کو واپس لایا اور نیشنل ایکشن پلان کی کھلی خلاف ورزی کی، وزیراعظم نواز شریف کے دور میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوا تھا۔ نواز شریف نے پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیا، نیشنل ایکشن پلان بنایا اور ایک متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو امن و امان سے نہیں دہشتگردوں کو پناہ دینے سے غرض ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے نہ صرف نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی کی بلکہ 2018 کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو دوبارہ پناہ دی، رہائش دی، مالی مدد فراہم کی اور انہیں آباد کیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج دہشت گردی سے شہید ہونے والے ہر پاکستانی کے لہو کا ذمہ دار عمران خان ہے۔ ان کے بقول، دہشت گردی کی واپسی کا مجرم عمران خان ہے، اسے اس کا حساب دینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے ہونا چاہئے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی افواج، پولیس، رینجرز اور عوام کے ہر طبقے نے عظیم قربانیاں دی ہیں، لیکن عمران خان نے دہشت گردوں کا ساتھ دے کر ان قربانیوں کی توہین کی۔
یہ بھی پڑھیے: دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتے، شہدا کیساتھ کھڑے ہیں، سلمان اکرم راجہ
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے عزم اور ہمت سے دہشت گردوں کے خلاف جامع اور مؤثر آپریشن شروع کیا تھا، جس سے پاکستان کو دہشت گردی سے محفوظ بنایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دہشتگردی عمران خان مریم اورنگزیب.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی مریم اورنگزیب مریم اورنگزیب عمران خان ہے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
امریکا فائرنگ اور تاجکستان ڈرون حملہ—دفترِ خارجہ نے ذمہ داری افغان حکومت پر ڈال دی
دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا میں فائرنگ کا حالیہ سانحہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ تاجکستان میں تین چینی شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری براہِ راست افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام ہے اور اسے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفترِ خارجہ نے واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ یہ واقعہ خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی دہشت گردی دوبارہ پھل پھول رہی ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔
تاجکستان میں ڈرون حملہ جس میں تین چینی باشندے مارے گئے، اس پر بھی پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا اور واضح کہا کہ کابل حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، کیونکہ ایسے حملے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ترجمان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق بیان کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سرحدی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں ممالک مل کر اس کا قابلِ عمل حل تلاش کریں گے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا مختصر ورژن، سوشل میڈیا کیپشن یا ہیڈ لائن بھی بنا سکتا ہوں۔