ٹی ایل پی بلوچستان کے کارکنوں نے قومی شاہراہ بند کردی، مسافروں کو شدید مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
کوئٹہ:
تحریک لبیک بلوچستان کے کارکنوں نے احتجاجاً قومی شاہراہ بند کردی جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک لبیک بلوچستان ٹی ایل پی کے کارکنوں نے سونا خان چوک پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو احتجاجاً مکمل طور پر بند کر دیا جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور سیکڑوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ مظاہرین نے اپنے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف نعرے بازی کی اور شاہراہ پر دھرنا دے دیا۔
تحریک لبیک بلوچستان کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ان کے رہنماؤں کی حالیہ گرفتاریاں اور مذہبی اجتماعات پر پابندیوں نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔
احتجاج کی قیادت مقامی رہنما مولانا حفیظ اللہ نے کی جنہوں نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے، ہم شاہراہ نہیں کھولیں گے۔
مظاہرین نے گرفتار رہنماؤں کی فوری رہائی اور صوبے میں مذہبی آزادی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
شاہراہ کی بندش کے سبب کوئٹہ سے کراچی سبی اور دیگر اضلاع کو جانے والی گاڑیاں گھنٹوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق سونا خان چوک کے دونوں اطراف 5 سے 7 کلومیٹر تک گاڑیوں کی قطاریں لگ چکی ہیں، مسافروں میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں جنہیں کھانے پینے اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔
ایک مسافر بشیر احمد نے بتایا ہم صبح سے یہاں پھنسے ہیں نہ کوئی متبادل راستہ ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے کوئی امداد دی جا رہی ہے، پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی لیکن اب تک کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا۔
اسسٹنٹ کمشنر نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ وہ صورتحال کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شہریوں سے صبر کی اپیل کی ہے، ہم مظاہرین کے مطالبات کو اعلیٰ حکام تک پہنچا رہے ہیں لیکن شاہراہ کی بندش سے عوام کو مشکلات ہو رہی ہیں اس لیے جلد حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس نے سیکیورٹی کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کی درخواست کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے کارکنوں
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔