غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل، امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ فوجی غزہ میں داخل ہوئے بغیر مصر، قطر اور ترکیے کے فوجیوں کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ امن معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اسرائیلی فوج غزہ امن معاہدے کے مطابق طے شدہ حدود تک واپس جا چکی ہے۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے غزہ کا دورہ کیا اور تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا غزہ کا دورہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے تھا کہ سول ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر کیسے قائم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہوگا، بلکہ تعاون کا عمل باہر سے جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔