انصار اللہ کا اسرائیل کو الٹی میٹم
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
ایک سینئر عہدیدار نے کہاہے کہ یمن غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں اسرائیلی اہداف کے خلاف "زیادہ سخت اور تباہ کن" ردعمل دیگا۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی تحریک انصار اللہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ یمن غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں اسرائیلی اہداف کے خلاف "زیادہ سخت اور تباہ کن" ردعمل دیگا۔ انصار اللہ کے سیاسی ونگ کے ایک رکن حزام الاسد نے اسپوتنک نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو ہم حملے بند کر دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اگر تل ابیب اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہمارا ردعمل زیادہ سخت اور تباہ کن ہوگا۔ واضح رہے کہ انصار اللہ کے ایک رہنمانے کل بھی کہا تھا کہ کسی بھی طرح کی کارروائیاں بند کرنے کا انحصار غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے رویے پر ہے۔ انصار اللہ غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعدسے فلسطینیوں کے سب سے زیادہ فعال حامیوں میں سے ایک ہے۔ یمن نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل کے خلاف متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
یہ حملے فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ کی جنگ اور ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تل ابیب پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیے گئے۔ ان حملوں میں سے زیادہ تر جنوبی مقبوضہ فلسطین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، خاص طور پر ایلات کے علاقے، لیکن کچھ میزائل مرکزی علاقوں پر بھی فائر کیے گئے، جن میں تل ابیب اور بین گوریون ایئرپورٹ شامل ہیں۔ ان حملوں کو اسرائیل کے لیے ایک سیکورٹی چیلنج کے طور پر دیکھا گیا اور اس نے یمن میں اہداف پر اسرائیلی فوجی ردعمل کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غزہ کی پٹی میں انصار اللہ
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔