کراچی میں خوفناک ٹریفک حادثے میں ماں بیٹی سمیت 3 خواتین جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
شہر قائد میں واقع شارع فیصل اسٹارگیٹ کے قریب تیزرفتارگاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی، افسوسناک حادثے میں ماں بیٹی سمیت تین خواتین جاں بحق جبکہ ایک نوجوان زخمی ہوا، جاں بحق خواتین اور زخمی گاڑی میں سوار تھے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شارع فیصل اسٹارگیٹ کے قریب تیزرفتارگاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی گاڑی میں سوار3 خواتین جاں بحق اورایک نوجوان زخمی ہوگیا۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ماں بیٹی اور کزن شامل ہے۔ حادثے میں گاڑی مکمل تباہ ہو گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ ممکنہ طورپر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔
اتوارکی علی الصبح ایئرپورٹ تھانے کے علاقے شارع فیصل ملیر اسٹارگیٹ کے قریب تیزرفتارگاڑی رجسٹریشن نمبر ’بی جی کیو 469‘ ڈرائیور سے بے قابو ہونے کے بعد الٹ گئی تھی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایک خاتون موقع پر جاں بحق جبکہ 2خواتین سمیت 3 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد مزید 2 خواتین دوران علاج دم تور گئیں، خوفناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والی خواتین کی شناخت 50 سالہ اسماء زوجہ غلام طارق، 19 سالہ منتہا دختر غلام طارق اور 22 سالہ فریال شایان کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والی خواتین میں ماں بیٹی اورچچا زاد کزن شامل ہے، زخمی نوجوان کی شناخت اویس کے نام سے کی گئی۔
حادثے میں جاں بحق اور زخمی افراد ملیرلیاقت مارکیٹ کے قریب کے رہائشی تھے۔
سیکشن آفیسر (ایس او) ایئر پورٹ ریحان زیب کے مطابق حادثہ صبح سویرے پیش آیا، گاڑی میں سوارافراد ڈرگ روڈ سے ملیرجارہے تھے کہ اسٹارگٹ کے قریب گاڑی اچانک فٹ پاتھ سےٹکرانے کے بعد دوسری سڑک پر جا کر الٹ گئی۔
ایئر پورٹ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی خواتین کی میتیں قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئیں ، پولیس نے حادثے میں متعلق اپنی جانچ جاری رکھی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حادثے میں جاں بحق ہونے میں ماں بیٹی گاڑی میں کے قریب الٹ گئی کے بعد
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔