غزہ میں جنگ بندی ترکیہ، مصر اور قطر کی مشترکہ سفارتی کامیابی ہے، نیٹو کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے نے غزہ میں جنگ بندی کے قیام پر ترکیہ، امریکا، مصر اور قطر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امن کی جانب ایک انتہائی اہم اور تاریخی قدم ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق سلووینیا میں منعقدہ نیٹو پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ترکیہ کے نمائندہ اور حکمراں جماعت اے کے پارٹی کے رکن مولود چاؤش اولو کے سوال کے جواب میں مارک رُٹے نے کہا کہ میں ترکیہ، امریکا، مصر اور قطر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہاکہ صدر رجب طیب اردوان اور ان کی ٹیم نے جنگ بندی کے لیے انتھک محنت کی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے بڑے تنازعات کا حل ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک عظیم قدم ہے جو ہم سب کو، خصوصاً یورپ اور امریکا کو، یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے چاہئیں۔
نیٹو کے سیکریٹری نے اس موقع پر اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان مشرقِ وسطیٰ خصوصاً اسرائیل اور غزہ کے مسئلے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کی بنیادی توجہ یورواٹلانٹک خطے پر ہے، تاہم ہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ اس کے اثرات عراق میں ہماری مشن پر پڑتے ہیں ، جہاں ترکیہ سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، جو 29 ستمبر کو پیش کیے گئے منصوبے کے پہلے مرحلے پر مبنی ہے۔
پہلے مرحلے کے تحت غزہ میں فریقین کے درمیان فائر بندی، تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کی آزادی، اور اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا شامل ہے۔
معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کے لیے ایک نئی انتظامی حکمتِ عملی کی تشکیل شامل ہے، جس میں حماس کو شامل نہیں کیا جائے گا، جب کہ ایک کثیر القومی فورس کے قیام اور حماس کے غیر مسلح کیے جانے کا عمل بھی طے کیا گیا ہے۔
خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔