قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پھر جب انہوں نے اْس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے ’’یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا‘‘ ’’نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے۔ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا‘‘ آخرکار اْن کا حال یہ ہوا کہ اْن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔(سورۃ الاحقاف:24تا25)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ہاں وہ لوگ نور کے منبروں پر براجمان ہوں گے جو اپنے فیصلوں، اپنے ذاتی معاملات اور اپنی ذمے داریوں میں عدل وانصاف کا رویہ اپناتے ہیں۔ (مسلم) ٭ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی میت کو کفن پہنایا اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں حریرو ریشم کا لباس پہنائیں گے۔ (معجم الاوسط از طبرانی)
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاک فوج کے غازی کیپٹن ارشاد نے محاذ جنگ پر بہادری اور غیرمتزلزل عزم کی مثال قائم کردی
جنوبی وزیرستان کے مشکل ترین محاذ تِیرہ راجگال میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران پاک فوج کے بہادر افسر کیپٹن ارشاد نے ایک ایسی مثال قائم کی جسے سن کر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔
کارروائی میں شریک جوانوں کے مطابق آپریشن کے دوران دشمن کی پوزیشن کے قریب پہنچتے ہوئے کیپٹن ارشاد نے خود آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے پوری جرات سے اعلان کیا کہ وہ دشمن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے سب سے آگے جائیں گے، اور پھر شدید فائرنگ کے باوجود وہ تنِ تنہا دشمن کے مورچے کی طرف بڑھے اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایسے طیارے کے اغوا کی داستان جس نے پاکستان کو ہلاکر رکھ دیا
ساتھی جوانوں کے مطابق دشمن سے جھڑپ کے بعد واپسی کے دوران کیپٹن ارشاد کا قدم اینٹی پرسنل بارودی سرنگ پر آ گیا۔ دھماکے نے لمحوں میں منظر بدل دیا، مٹی کا گہرا غبار اٹھا، اور کیپٹن ارشاد شدید زخمی حالت میں زمین پر گرے۔ دھماکے سے ان کا آدھا پاؤں کٹ گیا جبکہ انگلیاں ان کے جوتے میں اٹک گئیں۔
جوانوں کا کہنا ہے کہ جب انہیں نیچے منتقل کیا جا رہا تھا تو حالت نازک تھی، مگر ان کے چہرے پر خوف یا کمزوری کا کوئی اثر نہیں تھا۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ مسلسل اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند کرتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ دشمن کو پیچھے کرنا ہے۔
آپریشن کے دوران دشمن کی متعدد پناہ گاہیں تباہ کی گئیں جبکہ چار جوان وطن کی خاطر شہید ہوئے۔ کیپٹن ارشاد اس وقت صحتیاب ہو رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد دوبارہ کھڑے ہونے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ وطن کی خدمت جاری رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: میران شاہ میں جھڑپ: پاک فوج کے 3 بہادر جوان شہید ، 3 دہشت گرد ہلاک
کیپٹن ارشاد کے سینیئر آفیسر میجر حسیب رضا نے ان کی جرات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یونٹ کے سب سے نڈر، فرض شناس اور بہادر آفیسرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بقول انتہائی کٹھن حالات میں بھی کیپٹن ارشاد نے کبھی پیچھے ہٹنے کا تصور نہیں کیا اور ہمیشہ مورچے کی پہلی لائن میں کھڑے رہے۔
کیپٹن ارشاد کی قربانی صرف ایک زخمی پاؤں کی نہیں، یہ اس جذبے کی علامت ہے جس کے سہارے پاک فوج کے جوان وطن کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہیں۔
کیپٹن ارشاد کا نام اب ان ہیروز کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے اپنی جان، اپنا خون، اپنا وجود اس خاکِ وطن پر نچھاور کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی پکتیکا میں کارروائی، خارجی گل بہادر کے رشتہ دار سمیت 70 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک
کیپٹن ارشاد نے کہا کہ وہ پہلے سے بہت بہتر ہیں اور پوری لگن کے ساتھ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ جلد دوبارہ ملک کی خدمت کے لیے میدان میں کھڑا ہوں۔
راجگال کے اس محاذ پر کیپٹن ارشاد کی قربانی اور بہادری پاک فوج کے اس جذبے کی زندہ مثال ہے جس کی بدولت وطن دشمنوں کے مذموم عزائم بار بار ناکام ہوتے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں