بھارت، دوران میچ بولر اپنی ٹیم کو میچ جتوانے کے بعد پچ پر ہی چل بسا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی:
بھارت میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک مقامی کرکٹر اپنی ٹیم کو میچ جتوانے کے بعد مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش کے ضلع مرادآباد میں کرکٹ ٹورنامنٹ میں ایک سینئر بولر میچ جتوانے کے فوراً بعد میدان میں ہی گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا
۔یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا، جہاں اتر پردیش ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام مرادآباد اور سنبھل کی ٹیموں کے درمیان میچ جاری تھا۔
مرادآباد کے خلاف سنبھل کی ٹیم کو میچ جیتنے کیلئے آخری 4 گیندوں پر 14 رنز درکار تھے۔
اس موقع پر مرادآباد کے سینئر لیفٹ آرم فاسٹ بولر احمر خان نے شاندار آخری اوور کیا اور اپنی ٹیم کو 11 رنز سے جیت دلا دی۔
تاہم اوور کی آخری گیند کرانے کے فوراً بعد احمر خان اچانک پچ پر گر گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق احمر خان کی سانس پھولنے لگی، وہ پچ پر بیٹھ گئے اور اچانک بے ہوش ہو کر گر گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیم کو
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔