مشہور و چنچل اداکارہ ہانیہ عامر، جو اپنی ہر پوسٹ سے مداحوں کو دیوانہ بنا دیتی ہیں، اس بار ایک پراسرار پوسٹ کے باعث خبروں کی زینت بن گئیں۔ ہانیہ کی تازہ انسٹاگرام پوسٹ نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں چند تصاویر شیئر کیں جن میں سے اکثر میں وہ ہمیشہ کی طرح شوخ انداز میں زندگی کا لطف اٹھاتی دکھائی دیں، تاہم دو تصاویر ایسی تھیں جنہوں نے سب کو حیران کر دیا۔ ان تصاویر کے ساتھ ہانیہ نے صرف ایک مبہم جملہ لکھا: "کس نے نظر لگائی پریتی کو؟" اور ساتھ ایک جملہ جوڑ دیا، "کیا براہ مہربانی اس قانون کو توڑ سکتے ہیں۔" اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ صارفین نے اندازہ لگایا کہ شاید ہانیہ بیمار ہیں، جبکہ دیگر نے کہا کہ ممکن ہے یہ کسی نئے ڈرامے یا پروجیکٹ کا منظر ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں ہانیہ عامر نے ایک ویڈیو رییل میں دپیکا پڈوکون کے فلم کبیر سنگھ کے کردار "پریتی" کو نبھاتے ہوئے سب کو چونکا دیا تھا، جس سے مداحوں نے قیاس کیا کہ شاید وہ اسی کردار کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ تاہم اب تک ہانیہ عامر نے اپنی پوسٹ پر کسی وضاحت یا تبصرے سے گریز کیا ہے، جس کے باعث مداحوں میں تجسس مزید بڑھ گیا ہے اور وہ یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ آیا یہ ان کی اصل حالت ہے یا کسی آنے والے پروجیکٹ کی جھلک۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ہانیہ عامر

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت