بھارتی فوج کی سرگرمی میں تیزی،کنٹرول لائن پر بھاری توپ خانے کی منتقلی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری نگر (اے پی پی) مودی حکومت نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی لائی ہے ، ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوجیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کنٹرول لائن پر بھاری توپ خانہ منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ علاقے کی ڈرون کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے
مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والی 155 ایم ایم آرٹلری گنیں کنٹرول لائن کے قریب اگلی پوسٹوں کی طرف منتقل کی جا رہی ہیں ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھاری توپوں کو ٹنگدھر، ترہگام اور کیرن جیسے حساس سیکٹروں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی کیمپوں اور بینکروں کی مرمت وغیر ہ کا کام بھی جنگی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے۔رہائشیوں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کے ساتھ چراگاہوں اور مشہور سیاحتی مقامات کو سیل کر دیا ہے۔ لوگوں نے وادی میں رات کے وقت ریل گاڑیوں کی آمد ورفت میں تیزی کی اطلاع دی ہے اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ان کے ذریعے فوجی سازوسامان کنٹرول لائن کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا،بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن اورورکنگ باﺅنڈری سے ملحقہ دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے حریت رہنماﺅں اور آزادی کے حامی افراد کو بڑے پیمانے پر ہراساں کیاجا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جا رہا ہے کنٹرول لائن منتقل کی کی طرف
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر