وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک انہیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ کسی سرکاری یا اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حالیہ دنوں میں اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا تاکہ وہ اپنی پارٹی کے قائد عمران خان سے ملاقات کر سکیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس ملاقات کی اجازت نہ دی گئی، جس پر انہوں نے سخت ردعمل دیا اور قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اس پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو اپنی پارٹی قیادت سے مشاورت سے نہ روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ کا مؤقف ہے کہ وہ عمران خان کی رہنمائی کے بغیر کسی اہم حکومتی فیصلے یا پالیسی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، کیونکہ تمام تر سیاسی و انتظامی فیصلے پارٹی پالیسی اور قیادت کی مشاورت سے ہی کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں عوام نے تحریک انصاف کے نمائندے کے طور پر منتخب کیا ہے، اس لیے وہ پارٹی قیادت سے مشورہ کیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان مختلف امور پر تعاون کی ضرورت بڑھ گئی ہے، بالخصوص افغان مہاجرین کی واپسی، سیکیورٹی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے متعدد اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے اس فیصلے سے مرکز اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ آ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔
تاحال وفاقی حکومت یا جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کی وجوہات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ تحریک انصاف نے بھی اس پابندی کو غیر آئینی اور سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی سے ملاقات وزیر اعلی

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا