پاکستان کا او آئی سی کیلیے تاریخی 4 نکاتی لیبر فریم ورک کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
دوحہ:۔ وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل، چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ پاکستان تعمیرات، صحت، آئی سی ٹی، اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں محفوظ مائیگریشن کاریڈورز تیار کر رہا ہے تاکہ مزدوروں کی باعزت اور محفوظ منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے لیے ایک جامع چار نکاتی فریم ورک پیش کیا ہے، جو مہارتوں کے فروغ، باوقار لیبر موبلٹی، سماجی تحفظ اور علاقائی انضمام جیسے اہم نکات کا احاطہ کرتا ہے۔
چھٹی اسلامی کانفرنس آف لیبر منسٹرز سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے او آئی سی اسکلز پارٹنرشپ کے قیام کی تجویز دی، جس کے تحت رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل، قابلِ تجدید توانائی اور کیئر اکانومی کے شعبوں میں مشترکہ تربیت اور تبادلے ممکن ہوں گے۔ انہوں نے اخلاقی لیبر موبلٹی کاریڈورز کی تشکیل پر زور دیا تاکہ منصفانہ بھرتی اور مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مزدوروں کے لیے پورٹ ایبل سوشل سیکورٹی اسکیمز کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے، تاکہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہونے والے مزدوروں کو سماجی تحفظ کے تسلسل کی سہولت حاصل ہو۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ پاکستان اس سلسلے میں پائلٹ منصوبوں اور تربیتی تبادلوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے، اور او آئی سی کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ پروگرامز شروع کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم خلیجی ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلامی دنیا کے ہنر مند کارکنوں کے لیے مزید روزگار اور ویزا کے مواقع فراہم کریں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کہ پاکستان او آئی سی انہوں نے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔