کرکٹ کا نیا فارمیٹ ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی، ٹی ٹین کے بعد اب ایک نیا فارمیٹ’ ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ بھی سامنے آ گیا۔
اس کے ابتدائی دو ایڈیشنز بھارت میں ہوں گے۔ پہلے ایڈیشن کا آغاز جنوری 2026 میں کیا جائے گا۔ْ
آرگنائزر نے گزشتہ روز ہونے والی تقریب میں سابق اسٹارز میتھیو ہیڈن، ہربھجن سنگھ، سر کلائیو لائیڈ اور اے بی ڈی ویلیئرز کے ساتھ اسے لانچ کیا۔
اس فارمیٹ کے ہر میچ میں 80 اوورز ہوں گے، ہر ٹیم 20، 20 اوورز کی دو اننگز کھیلے گی، پھر دونوں اننگز کے اسکور جمع کیے جائیں گے، نتیجہ جیت، ہار، ٹائی یا ڈرا سب ممکن ہو سکیں گے۔
یہ فارمیٹ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں کے اصولوں کا امتزاج ہوگا۔
اسے 13 سے19 سال کے نوجوانوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
Proud to have launched Test Twenty®️ with @gauravbahirvani .
— AB de Villiers (@ABdeVilliers17) October 16, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔