جب تک کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہیں کیا جاتا خلش باقی رہیگی، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اننت ناگ میں اپنے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ریاستی درجہ کی بحالی مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان موجود دوریوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی چار سالوں میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا عزم برقرار ہے۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جو وعدے عوام سے کئے تھے، ہم ان پر قائم ہیں۔ ہمارا موازنہ وقت سے پہلے نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ برس مکمل ہونے کے بعد ہم اپنا مکمل حساب کتاب عوام کے سامنے رکھیں گے اور عوامی فیصلہ ہی ہمارے کارکردگی کا اصل پیمانہ ہوگا۔ پی ڈی پی کے صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے حکومت کو مشروط حمایت کی پیشکش کے حوالے سے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ جو بھی بل ایوان میں اسپیکر کی منظوری سے پیش کیا جائے گا اور جس سے جموں و کشمیر کے عوام کو فائدہ ہو، نیشنل کانفرنس اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔ تاہم یہ طے کرنا ہے کہ کون سا بل کب پیش ہوگا، یہ صرف اسپیکر کا اختیار ہے، نہ کہ کسی ایم ایل اے کا۔
انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بڈگام میں نیشنل کانفرنس اپنا امیدوار میدان میں اتارے گی۔ انہوں نے کہا کہ نگروٹہ نشست کے لئے کانگریس سے بات چیت جاری ہے، اگر کانگریس وہاں سے امیدوار اتارنا چاہے، تو ہم ان کی بھرپور حمایت کریں گے۔ کانگریس نے اس سلسلے میں اپنی اعلیٰ قیادت سے اجازت طلب کی ہے اور اجازت ملنے کی صورت میں ہم مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ اننت ناگ میں اپنے دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ریاستی درجہ کی بحالی مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان موجود دوریوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا جب تک جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس نہیں دیا جاتا، مرکز اور یہاں کی عوام کے درمیان خلش باقی رہے گی، جب ہم خصوصی درجہ سے محروم ہوئے تو ہمارے بزنس رولز، ایڈووکیٹ جنرل اور کئی اہم ادارے ہمارے دائرہ اختیار سے نکل گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب عوامی نمائندہ حکومت کے ماتحت ہونا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے عمر عبداللہ نے نے کہا کہ سے بات
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔