مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا اپنا وعدہ پورا کرے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
سرینگر میں حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے بعد کشمیریوں کو درپیش تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا اپنا وعدہ پورا کریں۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے سرینگر میں حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو امید تھی کہ ان کی حکومت کے پہلے سال میں ہی مودی حکومت ریاستی حیثیت کی بحالی کا کا اپنا وعدہ پورا کرے گی تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے بعد کشمیریوں کو درپیش تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں بھارتی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں کشمیری عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کریں۔ عمر عبداللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے ہی اسمبلی اجلاس میں منظور کردہ ایک قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں ہے بلکہ یہ کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے بارہا کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت "مناسب وقت” پر بحال کی جائے گا، تاہم اس سلسلے میں کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیر کی ریاستی حیثیت عمر عبداللہ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔