دیرینہ حل طلب تنازعہ کشمیر سے علاقائی اور عالمی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہے
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
کشمیری عوام چاہتے ہیں اقوام متحدہ انہیں ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلوائے جس کا وعدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں ان سے کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس حل طلب مسئلہ کشمیر سے علاقائی اور عالمی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس اور کشمیری عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں اقوام متحدہ انہیں ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلوائے جس کا وعدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں ان سے کیا گیا ہے۔ مودی حکومت نے 5 اگست 2019ء کو یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر کے دنیا پر واضح کر دیا تھا کہ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔عالمی ادارے کو مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندوئوں کو آباد کر کے مقبوضہ علاقے کے آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی مودی حکومت کی کوششوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیں۔ اقوام متحدہ کو مقبوضہ علاقے میں قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام رکوانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔