عوام نے ہڑتال کی کال مسترد کردی ، وزیراعلیٰ خیبرپی کے اجلاس میں نہ آنا سیاسی سٹنٹ ہے : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عوام نے ٹی ایل پی اور تحریک انصاف کی احتجاج کی کال یکسر مسترد کر دی ہے۔ بے مقصد احتجاج کی کالوں کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ ملک بھر میں کاروبار زندگی رواں دواں ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے اجلاس میں بیٹھ کر بات چیت کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت خیبر پی کے کے امن و امان سے متعلق اجلاس میں وزیراعلیٰ کی موجودگی ضروری تھی۔ معرکہ حق کے بعد پاکستانیوں کو دنیا بھر میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ جمعہ کو یہاں اہم گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں بروقت اور اہم فیصلے کئے گئے جبکہ سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اجلاس میں تمام متعلقہ ادارے اور چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندے شریک تھے تاہم وزرائے اعلیٰ میں سے صرف خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی موجود نہیں تھے، ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی جنہوں نے تفصیلی گفتگو کی اور اپنا موقف پیش کیا مگر جب صوبے کی سکیورٹی، امن و امان اور لوگوں کے تحفظ کی بات ہو تو ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ خود موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر بھی بات ہوئی۔ اس موقع پر مزمل اسلم کی طرف سے بتایا گیا کہ پولیس شہداء کے لئے معاوضہ بھی دیا جا رہا ہے اور اس پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہیں مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود اجلاس میں شرکت نہ کرنا ایک سیاسی سٹنٹ کے سوا کچھ نہیں جس کا نقصان صرف عوام کو ہوتا ہے۔ امن و مان کے حوالے سے سیاست کھیلنا افسوسناک ہے، وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو شاید سوشل میڈیا پر داد اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ تو ضرور حاصل ہو جائے گی مگر جب صوبے کے عوام یا ملک کے لئے حقیقی فیصلے کرنے کا وقت آئے گا تو یہ ہمیشہ پیچھے رہیں گے کیونکہ یہ اجلاس میں بیٹھ کر بات چیت کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ گزشتہ روز ملک بھر میں معمولات زندگی معمول کے مطابق رہے، سڑکوں پر رش اور گہما گہمی رہی، بازار اور مارکیٹیں کھلی رہیں جبکہ عوام غزہ اور فلسطین کے معاملہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فلسطین کے مسئلہ پر ہمیشہ بھرپور اور اصولی موقف اپنایا ہے، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بلند کی اور اسرائیلی مظالم کی واضح الفاظ میں مذمت کی۔ وزیراعظم پاکستان کو عالمی فورمز پر جو عزت و وقار حاصل ہوا، خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جو عزت دی گئی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اور سبز پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے، معرکہ حق کے بعد پاکستانیوں کو دنیا بھر میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اجلاس میں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔