پی آئی اے کی نجکاری: ریٹائرڈ ملازمین کے میڈیکل پر ڈیڈلاک برقرار، بولی کی تاریخ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق، بالخصوص میڈیکل اور پنشن سہولیات، زیر بحث آئیں۔ اجلاس میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی، نجکاری کمیشن، اسٹیٹ لائف اور ریٹائرڈ ملازمین کے نمائندے شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق، ریٹائرڈ ملازمین کے میڈیکل سہولیات کے معاملے پر ہولڈنگ کمپنی اور لیبر یونینز کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جس کے باعث ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ہولڈنگ کمپنی نے تجویز دی کہ ریٹائرڈ ملازمین کو انشورنس کمپنی کے ذریعے میڈیکل سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاہم ملازمین کے نمائندوں نے اس تجویز پر تحریری تفصیلات مانگ لیں تاکہ اسے بہتر طور پر جانچا جا سکے۔
اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ہولڈنگ کمپنی نے درخواست کی کہ اس حساس معاملے پر حتمی فیصلہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کیا جائے تاکہ مزید مشاورت کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، تاحال کسی حتمی حل تک نہ پہنچنے کے باعث نجکاری کے لیے شیڈول کی گئی بولی کی تاریخ 30 اکتوبر سے بڑھا کر 17 نومبر کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ملازمین کے علاوہ مزید دو ممکنہ خریداروں نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے اس عمل میں مقابلہ بڑھنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین کے ہولڈنگ کمپنی پی ا ئی اے
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔