data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: گرمی کے موسم میں جسم کو ٹھنڈک پہنچانے والی مشہور سبزی لوکی بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جس کے باعث عوام کی دسترخوان سے یہ سبزی تیزی سے غائب ہو رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق شہر کے مختلف بازاروں میں لوکی کی فی کلو قیمت 180 سے 220 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ چند ہفتے قبل یہی سبزی 80 سے 100 روپے فی کلو تک دستیاب تھی۔

 سبزی فروشوں کے مطابق حالیہ دنوں میں بارشوں اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

تھوک منڈی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ پنجاب اور اندرونِ سندھ سے سبزیوں کی ترسیل کم ہونے کے باعث نہ صرف لوکی بلکہ دیگر سبزیاں بھی مہنگی ہو گئی ہیں،  فی ٹرک کرایہ بڑھنے اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے عام صارف براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔

گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ لوکی غریب طبقے کے لیے ایک عام اور صحت بخش غذا سمجھی جاتی تھی، مگر اب وہ بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے،  شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سبزیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

غذائیت کے ماہرین کے مطابق لوکی میں وٹامن سی، پوٹاشیم اور فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے،  گرمیوں میں جسم کو ٹھنڈک پہنچانے والی سبزی لوکی نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہے بلکہ طبّی ماہرین کے مطابق دل، جگر اور معدے کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

غذائیت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوکی میں وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر اور قدرتی منرلز پائے جاتے ہیں، جو جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ لوکی کا جوس گرمیوں میں جسم کو ٹھنڈک اور تازگی فراہم کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق لوکی دل کے مریضوں کے لیے مفید ہونے کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے والوں کے لیے بھی بہترین غذا ہے کیونکہ یہ کم کیلوریز کے باوجود بھرپور غذائیت فراہم کرتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لوکی صرف سبزی کے طور پر نہیں بلکہ میٹھے پکوان میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ خاص طور پر لوکی کا حلوہ برصغیر بھر میں بےحد مقبول ہے، جو دودھ، گھی اور خشک میوہ جات کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے اور ذائقے کے ساتھ توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان