بھارت میں سبزی خوری: ذاتی انتخاب یا ذات پات کی سیاست؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 اکتوبر 2025ء) گزشتہ ایک دہائی کے دوران، بھارت میں لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب پر بحث و مباحثے میں کافی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ حتیٰ کہ اس نے بعض اوقات پرتشدد صورت اختیار کرلی ہے۔
نریندر مودی کے 2014 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد سے، ملک کے کئی حصوں، خاص طور پر شمالی بھارت کی ہندی بولنے والی ریاستوں میں، گوشت کا استعمال کرنے والوں کو نشانہ بنانے والے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
کچھ صوبائی حکومتوں نے وقتاً فوقتاً ایسے احکامات بھی جاری کیے، جن کے تحت اسکولوں اور عبادت گاہوں کے قریب یا مذہبی تہواروں کے دوران گوشت اور گوشت پر مبنی کھانوں کو روکنے یا ان کے فروخت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں حکام نے حال ہی میں تمام تعلیمی اداروں میں گوشت، مچھلیوں اور انڈوں پر پابندی عائد کر دی۔
(جاری ہے)
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ''سیکولر اصولوں‘‘ کے تحفظ، ''سماجی ہم آہنگی‘‘ کے فروغ اور ''غذائی اختلافات سے پیدا ہونے والے مسائل‘‘ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔اس فیصلے پر تنقید ہوئی اور انفرادی آزادی، شمولیت اور مذہبی حساسیت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔
بھارت کے تمام شہروں میں، ایسے کھانے سے متعلق ضابطے لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ممبئی کی ایک کارپوریٹ وکیل ابھیپ سیتا پرکایستھا کے مطابق، بہت سے لوگوں کو اپنی خوراک کی عادات کی وجہ سے رہائش گاہ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب میں ممبئی منتقل ہوئی تو گھر تلاش کرنے کے دوران ایک ہی شرط سامنے آئی، سبزی خور ہونا لازمی ہے! جیسے ہی مکان مالک کو معلوم ہوا کہ ہم گوشت کھاتے ہیں، انہوں نے ہمیں مکان دینے سے انکار کر دیا۔
آخرکار ہمیں ایک ایسی عمارت میں فلیٹ ملا جہاں پڑوسیوں نے ہم سے مرغ کھانے سے اجتناب برتنے کا مطالبہ کیا۔ پچھلے دو سال سے ہم چکن کے پکوان چھپ کر کھاتے ہیں، اور ایسا کرتے وقت بھی لوگوں کی تجسس بھری نظروں سے محتاط رہتے ہیں۔‘‘ کھانوں پر پابندی یا شناخت ختم کرنے کی کوشش؟نئی دہلی کی ایک یونیورسٹی کی پروفیسر نبانِپا بھٹاچارجی نے بتایا کہ ایک بار ان کی ایک پڑوسن نے ان سے شکایت کی کہ ان کے کھانے کی خوشبو کھڑکی سے باہر جاتی ہے اس لیے انہوں نے ان سے کھڑکیاں بند کرلینے کو کہا۔
''اس نے کھانے کا نام نہیں لیا، صرف کہا کہ وہ 'فلاں‘ کھانا۔ حالانکہ سبزی خور کبھی کھڑکیاں بند نہیں کرتے، ان کا کھانا تو ایک مسلمہ معیار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میرا؟ مجھے ایک گنہگار سمجھا گیا، جس سے اپنے پسند کے کھانے چھوڑنے کی توقع کی جاتی ہے۔‘‘بھٹاچارجی کے ساتھ پیش آنے والا واقعے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت میں گوشت پر مبنی غذا کو بعض طبقات کیوں ناپسند کرتے ہیں، جس سے گوشت کھانے والے خود کو سماجی طور پر الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔
بھٹاچارجی کے مطابق، سبزی خوری کا ہندو ثقافتی شناخت اور قومی فخر کے ساتھ تعلق ہی بھارت میں خوراک سے متعلق سماجی اصولوں کو تشکیل دیتا ہے۔
اسّی فیصد بھارتی گوشت کھاتے ہیںہندو قوم پرست گروہ سبزی خوری کو ''روایتی‘‘ ہندو اقدار کی علامت کے طور پر فروغ دیتے ہیں، جبکہ وہ بھارت میں موجود متنوع غذائی روایات، حتیٰ کہ ہندو برادریوں کے اندر بھی غذائی تنوع ، کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
یہ گروہ اکثر گوشت کھانے کو مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات، جیسے مسلمانوں، عیسائیوں، آدی واسیوں (قبائلی برادریوں)، اور دلتوں، کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
ماہرِ غذائیت کرنمئی بھوشی کے مطابق ''بھارت میں گوشت خوری، خاص طور پر گائے کا گوشت کھانا، دلتوں اور آدی واسیوں سے جوڑا جاتا ہے جو سستی غذائیت کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ ذات پر مبنی درجہ بندی اور سماجی الگ تھلگ کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘اگرچہ ہندو، جو ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، کی ایک بڑی تعداد بھی گوشت کھاتی ہے، لیکن غذائی عادات علاقے اور ذات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
شمالی ہندی بولنے والی ریاستوں میں سبزی خوری زیادہ عام ہے، جب کہ جنوبی اور شمال مشرقی بھارت میں زیادہ تر لوگ گوشت کھاتے ہیں۔
اسی طرح، دلت اور قبائلی برادریوں میں گوشت خوری عام ہے، جب کہ اعلیٰ ذاتوں میں سبزی خوری غالب ہے۔
تاہم، اعلیٰ ذاتوں میں بھی صرف اقلیت ہی مکمل سبزی خور ہیں، کئی لوگ کسی نہ کسی شکل میں گوشت کھاتے ہیں۔
سن دو ہزار اکیس میں پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق، تقریباً 40 فیصد بھارتی بالغ خود کو سبزی خور قرار دیتے ہیں۔ لیکن اسی سال کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق، پندرہ سے 49 سال کے 80 فیصد بھارتی کسی نہ کسی شکل میں گوشت کھاتے ہیں، جو بھارت کو زیادہ تر سبزی خور ملک سمجھنے کے عام تصور کے برعکس ہے۔
خوراک، پاکیزگی اور سماجی درجہ بندیمحققین طویل عرصے سے بھارت کے ذات پات کے نظام اور خورد ونوش کی عادات کے درمیان اس تعلق کو اجاگر کرتے آئے ہیں جو ''پاکیزگی‘‘ اور ''آلودگی‘‘ کے تصورات پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تصورات ذات پات کے نظام کی جڑوں میں ہیں۔
کرنمئی بھوشی کہتی ہیں کہ بھارت کی ''سبزی خور ملک‘‘ کی شبیہ دراصل اعلیٰ ذات ہندوؤں، خصوصاً برہمنوں اور بنیوں، کے کھانے پینے کی عادات سے متاثر ہے، جنہوں نے رسم و رواج کے طور پر پاکیزگی اور سماجی مرتبے کی علامت کے طور پر سبزی خوری اپنائی۔
تاہم، وہ زور دیتی ہیں کہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔
مثلاً مشرقی ریاست مغربی بنگال کے کئی برہمن مچھلی کھاتے ہیں۔
سنسکرت اسکالر پُنیتا شرما کا کہنا ہے کہ کھانے پینے کی عادات دراصل آب و ہوا اور جغرافیہ سے متاثر ہوتی ہیں، جو غذائی وسائل کی دستیابی طے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ''بھارت میں روایتی غذائیں قدرتی وسائل اور موسمی دستیابی پر مبنی تھیں، جو ماحول اور کھانے پینے کی عادات کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔
‘‘شرما کے مطابق لوگ اپنی روایات اور ثقافت کا احترام کرنے کے لیے غذائی اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''سبزی خور غذا زیادہ صحت مند ہے اور گوشت پر مبنی غذا کے مقابلے میں بیماریوں کا امکان کم کرتی ہے۔‘‘
شہری زندگی اور کھانے پینے میں تبدیلیاںحال کے برسوں میں بھارت میں کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی آئی ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان بہتر مواقع کے لیے بڑے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ نوجوان اب طرح طرح کے کھانا کھانے لگے ہیں، جن میں گوشت بھی شامل ہے۔
کرنمئی بھوشی کے مطابق، ''یہ تبدیلی شہری کاری اور بڑھتی ہوئی آمدنی کی وجہ سے ہے، جو روایتی سبزی خور اصولوں سے آگے غذائی تنوع کو فروغ دے رہی ہے۔‘‘
شہری نوجوانوں میں ایک نیا رجحان ویگان ازم کا بھی بڑھ رہا ہے۔
بہت سے نوجوانوں کے لیے، جیسے 24 سالہ اُجل چکرورتی، یہ صرف طرزِ زندگی کا انتخاب نہیں بلکہ ذات پر مبنی سبزی خوری کے خلاف ایک نظریاتی موقف ہے۔
انہوں نے کہا، ''بھارت میں ویگان ازم ابھی نیا ہے اور اکثر اسے ذات سے جڑی سبزی خوری کے ساتھ الجھا دیا جاتا ہے۔ لیکن ویگان ازم کا تعلق ماحولیات سے ہے، ذات سے نہیں۔‘‘
چکرورتی کے مطابق، سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اور کارکنوں نے ویگان ازم کو ایک اخلاقی، قابلِ فخر اور ذات پات سے ماورا انتخاب کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کھانے پینے کی عادات بھارت میں کے طور پر کے مطابق انہوں نے میں گوشت کرتے ہیں کے کھانے کے ساتھ ذات پات کے لیے کی ایک
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی