پرتگال میں عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی عائد کا بل پارلیمنٹ سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
LISBON:
پرتگال کی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کرلیا ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر مذہبی یا صنفی وجوہات کی بنا پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کو متعدد مسلمان خواتین کے چہرے کے نقاب کو نشانہ بنانے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
پرتگال کی عدالت میں مذکورہ بل دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت ’چیگا‘ نے پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ برقع پورے جسم کو ڈھانپتا ہے اور نقاب صرف آنکھوں کے گرد جگہ چھوڑتا ہے، جس سے عوامی مقامات پر پہننے پر پابندی ہوگی۔
بل میں کہا گیا کہ عبادت گاہوں، سفارتی دفاتر اور ہوائی جہازوں میں نقاب کی اجازت برقرار رہے گی۔
پرتگال میں اس بل کے تحت چہرہ ڈھانپنے والی خواتین پر 200 یورو سے 4000 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
صدر مارسيلو ریبیلو دی سوسا کی منظوری کے بعد بل قانون کی حیثیت اختیار کر جائے گا تاہم ان کے پاس اختیار ہے کہ اس بل کو ویٹو کریں یا آئینی عدالت کو بھی بھیج سکتے ہیں۔
اگر یہ بل قانون بن گیا تو پرتگال بھی ان یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں چہرے یا سر ڈھانپنے پر مکمل یا جزوی پابندیاں موجود ہیں، جن میں آسٹریا، بیلجیم اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔