Express News:
2026-06-03@03:16:36 GMT

غزہ امن معاہدہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

تقریباً دو برس تک اسرائیل نے غزہ کے معصوم، نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں پر آتش و آہن کی بارش کرکے ساٹھ ہزار سے زائد مردوں، بچوں اور عورتوں کو نہ صرف شہید کیا بلکہ غزہ کو کھنڈرات میں بدل دیا۔ پوری دنیا میں نیتن یاہو کی بربریت، سفاکی اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے اور غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کیے گئے۔ نہ صرف مسلم دنیا بلکہ غیر مسلم ملکوں میں بھی اسرائیل کے خلاف اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں بھرپور آواز اٹھائی گئی۔

اقوام متحدہ میں ایک سے زائد بار غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے قراردادیں پیش کی گئیں لیکن اسرائیل کا سرپرست امریکا ہر دفعہ قرارداد کو ویٹو کرکے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ تاہم بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ جنگ بندی کے لیے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سردست یہ کہنا مناسب ہوگا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور وہاں مکمل طور پر اپنی حاکمیت قائم کرنے کا اسرائیلی منصوبہ نیتن یاہو کی خواہش کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن معاہدے نے اس کے آگے فی الحال بند باندھ دیا ہے۔

مصر کے شہر شرم الشیخ میں گزشتہ ہفتے ’’غزہ امن معاہدے‘‘ پر دستخط کیے گئے۔ اس ضمن میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سمیت 20 سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ تاریخی امن معاہدے پر امریکا، مصر اور ترکیہ کے صدور اور امیر قطر نے بطور ضامن دستخط کیے۔ فلسطینیوں کی نمایندہ تنظیم حماس کو امن معاہدے کے بعض نکات پر تحفظات ہیں تاہم حماس نے جزوی طور پر امن معاہدے کو قبول کرتے ہوئے یرغمالی اسرائیلی رہا کرنے شروع کر دیے ہیں۔

چند لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ جب کہ اسرائیل نے بھی دو ہزار کے قریب فلسطینی قیدی رہا کر دیے ہیں۔ ہر دو جانب کے قیدی جب اپنے اپنے پیاروں کے پاس پہنچے تو بڑے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ اس موقع پر فلسطینیوں کا دکھ گہرا ہے کہ رہائی پانے والے بعض فلسطینیوں کے اہل خانہ اسرائیلی طیاروں کی بمباری کی نذر ہو کر شہید ہو چکے ہیں۔ ان کے گھر بار ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ ان کی زندگی اب دکھوں کا مجموعہ ہے۔

امن معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے یقین سے کہا ہے کہ آج تاریخی دن ہے جنگ بندی معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے ترکیہ، مصر اور قطر سمیت تمام شریک ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی کاوشوں سے یہ امن معاہدہ ممکن ہوا ہے۔

اب سب مل کر غزہ کی تعمیر نو کریں گے، امن اور ترقی ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ تیسری عالمی جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ انھوں نے خاص طور سے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا بھی شکر گزار ہوں۔ امریکی صدر نے وزیر اعظم کو گفتگو کرنے کی بھی دعوت دی اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ امن معاہدہ صدر ٹرمپ کی خصوصی توجہ اور جستجو کی بدولت ممکن ہوا۔ انھوں نے لاکھوں جانیں بچائیں وہ امن کے نوبل پرائز کے حق دار ہیں۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ امن معاہدہ سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا۔

بلاشبہ غزہ امن معاہدہ موجودہ سنگین صورت حال میں جنگ بندی کے حوالے سے امید کی کرن ہے۔ تاہم امن معاہدے کے حوالے سے مبصرین و تجزیہ نگار تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ دو سوال نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اول یہ کہ کیا یہ امن معاہدہ دیرپا ہوگا؟ کیا ماضی کی طرح اسرائیل امن معاہدے کی کچھ عرصہ پابندی کرنے کے بعد پھر اسے نقصان پہنچانے اور فلسطینیوں پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرے گا؟ کیا حماس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ختم ہو جائے گی؟ کیا مشرق وسطیٰ واقعی امن کا گہوارا بن جائے گا؟

دوسرا اہم سوال یہ کہ کیا امن تازہ اس معاہدے سے فلسطینی عوام کی دیرینہ خواہش کے مطابق ان کے لیے ایک علیحدہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی؟ کیا امریکا، اسرائیل اور معاہدے کی ضامن قوتیں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی؟ جب کہ امریکا کو اقوام متحدہ میں ویٹو کی پاور حاصل ہے۔

وہ حماس کا بھی سخت مخالف ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو ہم طاقت استعمال کرکے اسے غیر مسلح کر دیں گے۔ جب کہ اسرائیل نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے یرغمالیوں کی لاشیں بروقت واپس نہ کیں تو وہ غزہ میں امدادی سامان لانے والے ٹرکوں کی تعداد نصف کر دے گا۔ ایک طرف امن کی باتیں اور دوسری طرف دھمکیاں تاریخی امن معاہدے کو گزند پہنچانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ تمام فریقین کو محتاط رہنا ہوگا!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنگ بندی کے امن معاہدہ امریکی صدر امن معاہدے کے حوالے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ