دنیا کا ہلکا ترین لیپ ٹاپ جس کا وزن محض 634 گرام ہے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کا سب سے ہلکا لیپ ٹاپ جاپانی کمپنی Fujitsu نے متعارف کروا دیا ہے۔
کمپنی نے اپنے نئے ماڈل FMV UH-X K3 کو پیش کیا ہے، جس کا وزن چارجر کے بغیر صرف 634 گرام ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا کے ہلکے ترین لیپ ٹاپس Fujitsu ہی نے تیار کیے تھے — جن میں 2022 کا WU-X/G2 اور 2024 کا WU-X/G3 شامل ہیں، دونوں کا وزن بھی 634 گرام تھا۔
کم وزن برقرار رکھنے کے لیے نئے لیپ ٹاپ میں مختلف جدید میٹریلز استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کا اوپری حصہ کاربن فائبر سے بنا ہے، جبکہ کی بورڈ اور باڈی میں میگنیشم لیتھیم استعمال کیا گیا ہے۔ ہلکے وزن کے باوجود کمپنی کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ عام استعمال میں پائیدار ثابت ہوگا۔
اس کے چارجر کا وزن بھی صرف 151 گرام ہے، جب کہ پچھلے ماڈلز کے چارجرز 280 گرام کے تھے۔
کارکردگی کے لحاظ سے، اس لیپ ٹاپ میں Intel Core Ultra 7 255U پروسیسر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس انجن موجود ہے۔ اس میں 16 جی بی ریم اور 512 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، جبکہ ڈسپلے 14 انچ کا رکھا گیا ہے۔
کنیکٹیویٹی کے لیے جدید فیچرز جیسے Wi-Fi 7، Bluetooth 5.
سیکیورٹی کے لیے Windows Hello فنگر پرنٹ سینسر اور ویب کیم پرائیویسی شٹر بھی دیا گیا ہے۔
بیٹری لائف کے لحاظ سے، کمپنی کا کہنا ہے کہ لیپ ٹاپ مسلسل ویڈیوز چلانے پر 7 گھنٹے اور عام استعمال میں 18 گھنٹے تک کام کر سکتا ہے۔
اس کی قیمت 1863 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔