کراچی کے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
نیپرا نے اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کے مالی سال 2024ء تا 2030ء کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق نظرِثانی کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نیپرا نے اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کے الیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی بزنس کے متعدد پہلوؤں پر محیط ہے۔ رائٹ آف کلیمز سے متعلق نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، جبکہ دیگر معاملات میں نیپرا کی جانب سے نمایاں تبدیلیاں کمپنی کیلئے غیر پائیدار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ان تبدیلیوں سے تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصاً صارفین پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ کے الیکٹرک نیپرا کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے، جس میں کمپنی لاگو قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے فی یونٹ کے الیکٹرک نیپرا نے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔