معاشی اصلاحات کا تسلسل: آئی ایم ایف نے پاکستان کی شرح نمو میں بہتری کی پیشگوئی کردی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی ترقی کے اندازوں میں بہتری لاتے ہوئے سال 2025 کے لیے شرحِ نمو 3.2 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے، جو کہ گزشتہ سال 2024 کی 2.1 فیصد شرحِ نمو سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ادارے نے اس بہتری کی وجہ پاکستان کے مضبوط معاشی بنیادوں اور خطے میں مالی استحکام کو قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی معیشت کے لیے اچھی خبر، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا
یہ پیش گوئی آئی ایم ایف کی مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2025 میں شامل ہے، جس میں تیل برآمد کرنے اور درآمد کرنے والے دونوں ممالک کے لیے مجموعی معاشی امکانات میں بہتری دکھائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ بہتری ترسیلاتِ زر میں اضافے، توانائی کی قیمتوں میں کمی اور پائیدار معاشی اصلاحات کی بدولت ممکن ہوئی ہے جنہوں نے ملکی مالی صورتحال کو مستحکم کیا۔
آئی ایم ایف کے مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر نے رپورٹ میں کہا کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک نے پیداوار میں اضافے سے فائدہ اٹھایا ہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک اور پاکستان نے کم توانائی قیمتوں، مضبوط ترسیلاتِ زر اور فروغ پاتے سیاحت کے شعبے سے نمایاں فوائد حاصل کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ 5 برسوں میں 4.
رپورٹ کے مطابق خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، البتہ 26-2025 میں توانائی سبسڈی کے خاتمے اور بجلی ٹیرف کے معمول پر آنے سے مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شرح نمو 4.3 فیصد تک جانے کی توقع، آئی ایم ایف کی پاکستانی معیشت کے حوالے سے مثبت پیش گوئیاں
آئی ایم ایف نے مزید کہاکہ ٹیکس اصلاحات اور توانائی قیمتوں میں ساختی تبدیلیوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور ریونیو کلیکشن کے نظام میں بہتری آئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں حالیہ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی لچک اور جاری اصلاحاتی اقدامات نے اسے ابھرتی ہوئی منڈیوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے، اور اگر اصلاحات کا تسلسل برقرار رہا تو درمیانی مدت میں تیز تر اقتصادی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ پاکستان شرح نمو عالمی مالیاتی ادارہ معاشی اصلاحات کا تسلسل وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ پاکستان عالمی مالیاتی ادارہ معاشی اصلاحات کا تسلسل وی نیوز ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف پاکستان کی میں بہتری کے لیے
پڑھیں:
ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔