بلڈنگ افسران پر ملوث ہونے کے الزامات، جاری تعمیرات میں قانونی ضوابط کی پامالی
بلاک F پلاٹ نمبر E19,F95, پرڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند کی تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت

وسطی کے معروف علاقے نارتھ ناظم آباد کے مختلف بلاکس میں تعمیراتی مافیا نے دوبارہ سے اپنا دھندہ تیز کر دیا ہے ، جس کے نتیجے میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ یک لخت بڑھ گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند اسوقت ، بلاک F کے پلاٹ نمبر E19 اور F95 پر غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شدید الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کنٹرول کے افسران کی ملی بھگت سے نہ صرف غیر معیاری عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں، بلکہ بنیادی ڈھانچے اور رہائشیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ کئی جگہوں پر تو تعمیراتی کمپنیاں کھلی بغاوت پر اتر آئی ہیں اور انہیں نہ تو بلڈنگ قوانین کی پاسداری کا احساس ہے اور نہ ہی حفاظتی اقدامات کا۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی، عبدالستار، نے بتایا، ’’یہ لوگ راتوں رات غیرقانونی تعمیرات کرتے ہیں۔ ہماری شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ایسا لگتا ہے کہ سب ملے ہوئے ہیں‘‘۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی افسر کے خلاف ثبوت ملتے ہیں تو اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمارتوں کی غیرقانونی تعمیر پر کام روکنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے ۔ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ نہ صرف شہر کے خوبصورت منظر نامے کو تباہ کر رہا ہے بلکہ عوامی حفاظت کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی بنتا جا رہا ہے ۔اس صورتحال میں شہری حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نارتھ ناظم آباد میں ہو رہی غیرقانونی تعمیرات پر فوری طور پر کارروائی کریں اور مجرموں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: غیرقانونی تعمیرات کے خلاف

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری