آپ کی مائیں زندہ ہیں تو انہیں قریب رکھیں، جمائما کا اپنی والدہ کے انتقال پر جذباتی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
عمران خان کی سبقہ اہلیہ اور ممتاز برطانوی سماجی رہنما جمائمہ گولڈ اسمتھ نے اپنی والدہ کے انتقال کی خبر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے سوشل میڈیا پر دی۔
جمائما نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ زندگی کا قدرتی اصول ہے، ہر اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جس کے والدین زندہ ہوں مگر پھر بھی میں ایک ایسی دنیا کا تصور نہیں کر سکتی جس میں ماں موجود نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کا سابق سسرالی خاندان صدمے سے دوچار، جمائما کی والدہ انتقال کرگئیں
انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ 91 برس کی تھیں اور ایک بھرپور زندگی گزار چکی تھیں، پھر بھی ہم سب تیار نہیں تھے، یہ اچانک اور دل دہلا دینے والا صدمہ تھا۔
It’s the natural order of things.
It’s coming down the line for everyone with living parents — and yet, still, I just cannot fathom a world without Mum in it. (“Mum” to everyone, including her 18 grandchildren.)
Even though she was 91 and had lived a huge life, we were still… pic.twitter.com/pAU3NOcVJT
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) October 21, 2025
جمائما نے لکھا کہ جیسا کہ ایک دوست نے کہا اس صدمے سے کوئی بچ نہیں سکتا، مائیں بہت بڑی بات ہوتی ہیں، اگر آپ کی مائیں زندہ ہیں تو انہیں قریب رکھیں، ایک گھنٹہ مزید ان کے ساتھ بیٹھیں، فون دور رکھیں اور وہ سب باتیں کہہ دیں جو کہنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جمائما نے قاسم و سلیمان کو پاکستان آنے سے کیوں روکا؟ وجہ سامنے آگئی
جمائما نے اپنی والدہ کی مزاحیہ طبیعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آخری لمحات تک وہ شوخ اور ذہین تھیں۔ جب ایک نوجوان ڈاکٹر نے اسپتال میں ان سے بلند آواز اور سست لہجے میں پوچھا ’کیا آپ مجھے سمجھ رہی ہیں؟‘ تو انہوں نے فوراً جواب دیا: ’مجھے معدے کا درد ہے، الزائمر نہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’چند گھنٹے بعد، ہفتہ کی صبح، وہ پُرسکون نیند میں چل بسیں۔ میں شکر گزار ہوں کہ ان کا اختتام اتنے سکون سے ہوا۔ وہ بے حد پیاری اور سب کی محبوب تھیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتقال جمائما گولڈاسمتھ عمران خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتقال
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔