‘اپنی گاڑیاں واپس لے لو’، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاق کو یہ پیغام کیوں دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے دی گئی ناقص بلٹ پروف گاڑیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا پولیس کی تضحیک ہے، اس لیے انہیں واپس کیا جائے۔۔
نو منتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت پہلا باضابطہ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں گڈ گورننس روڈ میپ، امن و امان اور انسداد بدعنوانی سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز، اور پولیس کے اعلی حکام شریک ہوئے جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ پبلک سروس ڈیلیوری، امن و امان اور معیشت کے 3 بڑے شعبوں پر مرکوز ہے، جو پی ٹی آئی کے وژن اور منشور کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، تاہم صوبے کی بیوروکریسی اور پولیس نے دباؤ کے باوجود عوامی مینڈیٹ کا تحفظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن سرکاری اہلکاروں نے عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ایمانداری کا مظاہرہ کیا، انہیں ریوارڈ دیا جائے گا جبکہ عوامی مینڈیٹ کے خلاف جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور عمران خان پارٹی کے تاحیات چیئرمین ہیں، اس لیے پارٹی ایجنڈے پر عملدرآمد ہر سرکاری ادارے کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل ہوگا اور کسی بھی اہلکار کو عوامی خدمت میں ناکامی کی صورت میں عہدے پر برقرار نہیں رکھا جائے گا۔
پشاور اور ضم اضلاع کے لیے اہم اعلاناتوزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ روایتی طرزِ حکومت کے قائل نہیں بلکہ عملی تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں تاکہ عوام کو حقیقی تبدیلی کا احساس ہو۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹرائبل میڈیکل کالج، ٹرائبل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز، سیف سٹی پراجیکٹ اور ہر تحصیل میں پلے گراونڈز کے قیام کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے عوام کا نمائندہ ہوں، عمران خان سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی کا چیف جسٹس کو خط
انہوں نے شہید ارشد شریف کے نام سے یونیورسٹی آف انویسٹیگیٹیو اینڈ ماڈرن جرنلزم کے قیام اور پشاور شہر کی بحالی کے لیے ’ریوائیول پلان‘ بنانے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ای پیڈ سسٹم کو ای ٹینڈرنگ سے منسلک کیا جائے، جبکہ امتحانی نظام میں رٹہ کلچر کے خاتمے کے لیے کانسیپچوئل ایگزامینیشن سسٹم متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفرز میں میرٹ سے انحراف یا سفارش کلچر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایم پی او کے تحت گرفتاریوں پر پابندیسہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں 3MPO کے تحت کسی بھی سیاسی شخصیت کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، اور سیاسی انتقام پر مبنی ایف آئی آرز ختم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنائے، جیلوں میں قیدیوں پر تشدد ناقابل قبول ہے، اور کے پی پولیس کو پنجاب پولیس جیسا کلچر اختیار نہیں کرنے دیا جائے گا۔
پولیس کے لیے بڑے اعلاناتوزیر اعلیٰ نے پولیس کے لیے جدید اسلحہ اور آلات فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فنڈز میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کو وار آن ٹیرر کے فنڈز سمیت آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث امن و امان کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا عہدہ سنبھالتے ہی پہلا نوٹس کس معاملے کا لیا؟
سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے دی گئی ناقص بلٹ پروف گاڑیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کے پی پولیس کی تضحیک ہے، اس لیے انہیں واپس کیا جائے۔
آخر میں وزیر اعلی نے ہدایت دی کہ سابق وزرائے اعلی کو ان کی سکیورٹی بحال کی جائے تاکہ ان کا تحفظ اور عزت یقینی ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پحتونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پحتونخوا کے نومنتخب وزیراعلی سہیل ا فریدی سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ کیا جائے انہوں نے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔