غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے برطانوی فوجی اسرائیل میں تعینات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
امریکا کی درخواست پر برطانوی فوجیوں کو غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے اسرائیل میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے اس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی فورسز خطے میں طویل المدتی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گی۔
جان ہیلی کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجی ایک سول ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، جس میں مصر، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے عملی کردار ادا کر رہا ہے، اور یہ مشن اسی کوشش کا حصہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی اتحادی ممالک خوشی سے غزہ میں اپنی افواج بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ امن معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ”حماس وہی کرے گی جو درست ہے“، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے امن کے راستے کا انتخاب نہ کیا تو ”اس کا انجام فوری اور انتہائی دردناک ہوگا“۔
اسرائیلی جارحیت جاری
ایک طرف غزہ امن منصوبے کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جاری ہیں۔ غزہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید تیرہ فلسطینی شہید ہو گئے۔
مقامی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 80 فلسطینی شہید اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
جس کے بعد غزہ میں مجموعی طور پر شہدا کی تعداد بڑھ کر 68 ہزار 216 ہو گئی ہے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
مزید لاشیں اسرائیل کو واپس
دوسری جانب حماس نے دو مزید یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کے ذریعے لاشیں وصول کرنے کی تصدیق کی ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس اب تک ہلاک شدہ 28 یرغمالیوں میں سے 15 کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کر چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں