اسلام آباد ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی ہدایت کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں مارنے پر ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کے خاتمے اور نسل کشی کے خلاف کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں سی ڈی اے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن سے آوارہ کتوں کو مارنے پر وضاحت کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور حکم دیا کہ آوارہ کتوں کو مارنے کے شواہد ملنے پر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں سے متعلق 2020 کی پالیسی پر عمل کرنے کا حکم دیا اور سی ڈی اے کو آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی ہدایت کی۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خان کے چوتھی مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم علیمہ خان کے چوتھی مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم لوگوں کو پیسہ بینک میں رکھنے کے بجائے اسٹاک میں لگانا چاہیے، سپریم کورٹ انسداد دہشتگردی عدالت کا جی ایچ کیو حملہ کیس کے تمام ملزمان کو پیشی کا حکم عمران خان نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں واٹس ایپ پر 10 گواہوں کے بیان چیلنج کردیے لاہور؛ گلے میں ڈور پھرنے سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق مشرق وسطیٰ کی معروف کمپنی کی پاکستان کے مالیاتی شعبے میں تاریخی سرمایہ کاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کرنے کا حکم
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔