Jasarat News:
2026-07-24@13:44:35 GMT

اسپرے مہم شروع نہ ہونے سے حیدرآباد میں مچھروں کی بہتات

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں ڈینگی مچھر کے وار میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن سندھ حکومت کی کارکردگی زیرو ہے، محکمہ صحت نے تاحال ڈینگی مچھر سے بچاؤ کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں اور عوام کو بے یارو مددگار مرنے کیلیے چھوڑ دیا ہے، انہوں نے کہاکہ ملیریا کنٹرول پروگرام اور ڈی جی ہیلتھ سمیت ڈی ایچ او کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت کی صحت کے حوالے سے کارکردگی زیرو ہے، کروڑوں روپے کے بجٹ کے باوجود بھی کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں، نہ تو ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت عوام کو سہولیات فراہم کی جارہی ہے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ اس حوالے سے کوئی موثر اقدامات کررہی ہے ماسوائے کچھ علاقوں میں منتخب نمائندے اسپرے کرتے ہوئے فوٹو سیشن کرواکر سوشل میڈیا پر اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن عملاً حیدرآباد کے سب سے بڑے اسپتال سول ،شاہ بھٹائی ، کوہسار، پریٹ آباداور قاسم آباد اسپتال میں انتظامات تو دور کی بات وہاں ملیریا اور ڈینگی کے ٹیسٹ تک کی سہولت نہیں ہے مجبوراً اپنی جان بچانے کیلیے لوگ نجی اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں اور وہاں اپنی جمع پونجی لٹارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کروڑوں روپے کے بجٹ صرف سندھ حکومت ڈکارنے میں مصروف ہے اور عوام کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ