اسپرے مہم شروع نہ ہونے سے حیدرآباد میں مچھروں کی بہتات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں ڈینگی مچھر کے وار میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن سندھ حکومت کی کارکردگی زیرو ہے، محکمہ صحت نے تاحال ڈینگی مچھر سے بچاؤ کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں اور عوام کو بے یارو مددگار مرنے کیلیے چھوڑ دیا ہے، انہوں نے کہاکہ ملیریا کنٹرول پروگرام اور ڈی جی ہیلتھ سمیت ڈی ایچ او کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت کی صحت کے حوالے سے کارکردگی زیرو ہے، کروڑوں روپے کے بجٹ کے باوجود بھی کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں، نہ تو ملیریا کنٹرول پروگرام کے تحت عوام کو سہولیات فراہم کی جارہی ہے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ اس حوالے سے کوئی موثر اقدامات کررہی ہے ماسوائے کچھ علاقوں میں منتخب نمائندے اسپرے کرتے ہوئے فوٹو سیشن کرواکر سوشل میڈیا پر اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن عملاً حیدرآباد کے سب سے بڑے اسپتال سول ،شاہ بھٹائی ، کوہسار، پریٹ آباداور قاسم آباد اسپتال میں انتظامات تو دور کی بات وہاں ملیریا اور ڈینگی کے ٹیسٹ تک کی سہولت نہیں ہے مجبوراً اپنی جان بچانے کیلیے لوگ نجی اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں اور وہاں اپنی جمع پونجی لٹارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کروڑوں روپے کے بجٹ صرف سندھ حکومت ڈکارنے میں مصروف ہے اور عوام کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔