اسلام آباد میں ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس 2025 کا انعقاد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان سمیت خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے ٹرانسپورٹ نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور علاقائی روابط کا فروغ اجتماعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی شاہراہیں خطے کے ممالک کے درمیان رابطہ کاری میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ حکومت ریل اور روڈ نیٹ ورکس کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے رہی ہے تاکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو تقویت ملے۔

مزید پڑھیں: جاپانی سفیر کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

انہوں نے بتایا کہ پاکستان جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطے کا قدرتی ذریعہ ہے اور سی پیک کے تحت روڈ منصوبے علاقائی روابط کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے نیٹ ورک منصوبہ زیر غور ہے جو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راہداری کو مضبوط بنائے گا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی بندرگاہوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے اور ای پورٹ کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ روابط کا فروغ صرف تجارت نہیں بلکہ اعتماد سازی کا بھی ذریعہ ہے اور اجتماعی ترقی کا ہدف اسی صورت حاصل کیا جا سکتا ہے جب خطے کے ممالک ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوں۔

مزید پڑھیں: آذربائیجان کے ساتھ 2 ارب ڈالر کے معاہدے ہوں گے، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان

پاکستان نے شاہراہوں کی بہتری پر بھاری سرمایہ کاری کی تاکہ خطے میں معاشی ترقی کے نئے دروازے کھل سکیں، وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان

افتتاحی خطاب میں وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور کنیکٹیویٹی معاشی ترقی کے زینے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا مربوط نظام ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور حکومت اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ موٹرویز اور ہائی ویز کی تعمیر حکومت کے عزم کا مظہر ہے جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی مطابقت رکھنے والے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان خطے کے دیگر ممالک سے روابط بڑھا رہا ہے اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کے ذریعے ملک کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے شاہراہوں اور سڑکوں کی بہتری پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے تاکہ خطے میں آمدورفت، تجارت اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھل سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار اسلام آباد ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس 2025 سی پیک عبدالعلیم خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اسلام آباد ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس 2025 سی پیک عبدالعلیم خان کہا کہ پاکستان عبدالعلیم خان معاشی ترقی کے وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے کے لیے سی پیک خطے کے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار