21 سال قبل گم ہونے والی عشرت بالآخر اپنے گھر واپس پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)حافظ آباد میں اکیس سال قبل گم ہوجانے والی ننھی عشرت بالآخر اپنے گھر والوں کو واپس مل گئی۔
سیف سٹی اتھارٹی کی ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے ایک اور ناقابلِ یقین کامیابی حاصل کرلی، 21 سال سے گمشدہ عشرت کو بالآخر اس کے اہلِ خانہ سے ملادیا گیا۔
2005 میں حافظ آباد سے لاپتہ ہونے والی ننھی عشرت 2025 میں اپنے گھر واپس لوٹ آئی۔ سیف سٹی کی ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے عشرت کا انٹرویو ایدھی ہوم لاہور میں ریکارڈ کیا اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا۔
یہ ویڈیو دیکھ کر ایک محلہ دار نے عشرت کو پہچان لیا اور اس کی اطلاع اس کے بھائی کو دی۔ بھائی نے ویڈیو دیکھتے ہی اپنی بہن کو فوراً شناخت کرلیا۔
’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے تمام تصدیقی مراحل مکمل کرنے کے بعد عشرت کو اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا، جس کے بعد گھر میں خوشیوں کی فضا قائم ہوگئی۔
ترجمان سیف سٹی کے مطابق ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم اب تک 40 ہزار سے زائد گمشدہ افراد کو ان کے اہلِ خانہ سے ملا چکی ہے۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کسی گمشدہ شخص کے بارے میں معلومات ہوں تو 15 پر کال کر کے 3 دبائیں تاکہ متعلقہ ٹیم فوری رابطہ کر سکے۔
یہ ایک اور ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج جب ساتھ چلے تو گمشدہ امیدیں بھی گھر لوٹ آتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میرا پیارا
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔