مہندی کے رنگوں سے مستقبل سنوارنے والی باہمت لڑکی کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
مہندی کے رنگوں کو ہاتھوں میں پرو کر خود انحصاری کی مثال قائم کرنے والی امیہ بنت اقبال، ایک ایسی لڑکی کی کہانی جس نے ہنر کے ذریعے اپنی دنیا بدل ڈالی۔
یہ کہانی ہے مظفرآباد کی ایک باہمت اور خوددار طالبہ امیہ بنت اقبال کی، ایک ایسی لڑکی جس نے اپنے خوابوں کو رنگ اور مہندی کے کونز سے تعبیر کیا۔
میٹرک کے بعد جب اکثر لڑکیاں اگلے مرحلے کے خواب دیکھتی ہیں وہیں امیہ نےاپنے خوابوں کی تعبیر اپنے ہاتھوں سے لکھنی شروع کی۔
ایک چھوٹے سے کمرے، چند کونز اور بہت سارے ایسے خواب جو بظاہر ایک خاتون کے لیے قدرے آسان نہیں تھے۔
امیہ نے اپنے اس شوق کو پیشے کے طور پر اختیار کرتے ہوئے نا صرف اپنے تعلیمی اخراجات پورے کیے بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا بھی سیکھا۔
امیہ کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو ایک چھوٹا سا ہنر بھی خوشحالی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ مزید جانیے ڈاکٹر ثانیہ طارق کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews باہمت طالبہ دلچسپ کہانی مستقبل سنوارنے والی طالبہ مظفرآباد مہندی کے رنگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باہمت طالبہ دلچسپ کہانی مستقبل سنوارنے والی طالبہ مہندی کے رنگ وی نیوز مہندی کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔