اسموگ سے کاروبار زندگی متاثر ہوسکتا ہے، بچاؤ کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ اس مرتبہ بھی اسموگ سے کاروبار زندگی متاثر ہوسکتا ہے لہٰذا ہم سب کو مل کر اس سے نمٹنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اینٹی اسموگ آپریشن کے باوجود لاہور آلودہ ترین شہر، ’یہ پنجاب حکومت کر کیا رہی ہے؟‘
مریم اورنگزیب نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسموگ کی اصل وجوہات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اینٹوں کے بھٹے منتقل کرنے کے علاوہ دیگر عملی اقدامات کیے ہیں جن سے اسموگ پر قابو پایا جاسکے۔
مزید پڑھیے: یکم اکتوبر کو پنجاب میں فضائی معیار معتدل، اسموگ سے بچاؤ کے انتظامات جاری
مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت صوبے کی ایئر کوالٹی انڈیکس بہتر بنانے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسموگ سینیئر وزیر پنجاب ماحولیات مریم اورنگزیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسموگ ماحولیات مریم اورنگزیب مریم اورنگزیب
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔